بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی میں وراثت کی تقسیم


سوال

میرے والدصاحب کا انتقال ہوگیا  ،اور ان  کےوالدین کا ان کی زند گی میں ہی انتقال ہوگیاتھا، وراثت میں چالیس  گز کا مکان چھوڑاہے جس کی مالیت 65 لاکھ ہے ،ہمارے والد مرحوم کی ایک بیوہ ہے، اور ہم ٹوٹل تین بہن  بھائی ہیں، ایک بہن،2بھائی ۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ اس  ترکہ کی تقسیم  والد مرحوم کےموجودہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ 

 

جواب

سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی کفن ودفن کےاخراجات (اگر اب تک ادا نہیں کیے گئے ہوں یا کسی  نے بطور قرض ادا کیےہوں) کو ادا کرنے کے بعد اگر ان پر کوئی قرض ہو وہ ادا کرنے کے بعد  اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو وہ کل ترکہ  کےایک تہائی میں نافذ کرنے کےبعد بقیہ کل ترکہ کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو5 حصے، ہر ایک بیٹے  کو 14،14حصے اور  بیٹی کو7حصے ملیں گے۔

صورت  تقسیم یہ ہے:

میت(والد مرحوم)40/8

بیوہبیٹابیٹابیٹی
17
514147

یعنی سو میں سےبیوہ کو12.5فیصداورہرایک بیٹےکو  35فیصد اور  بیٹی کو  17.5فیصدحصے ملیں گے۔

اور روپے اورپیسہ کے لحاظ سے بیوہ کو 8لاکھ12ہزار500  ،اور ہرایک بیٹے کو22لاکھ 75 ہزار   اور11 لاکھ  37 ہزار500  بیٹی کوملیں گے۔

فقط واللہ  تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101796

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں