
میرے والدصاحب کا انتقال ہوگیا ،اور ان کےوالدین کا ان کی زند گی میں ہی انتقال ہوگیاتھا، وراثت میں چالیس گز کا مکان چھوڑاہے جس کی مالیت 65 لاکھ ہے ،ہمارے والد مرحوم کی ایک بیوہ ہے، اور ہم ٹوٹل تین بہن بھائی ہیں، ایک بہن،2بھائی ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس ترکہ کی تقسیم والد مرحوم کےموجودہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی؟
سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی کفن ودفن کےاخراجات (اگر اب تک ادا نہیں کیے گئے ہوں یا کسی نے بطور قرض ادا کیےہوں) کو ادا کرنے کے بعد اگر ان پر کوئی قرض ہو وہ ادا کرنے کے بعد اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو وہ کل ترکہ کےایک تہائی میں نافذ کرنے کےبعد بقیہ کل ترکہ کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو5 حصے، ہر ایک بیٹے کو 14،14حصے اور بیٹی کو7حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت(والد مرحوم)40/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 1 | 7 | ||
| 5 | 14 | 14 | 7 |
یعنی سو میں سےبیوہ کو12.5فیصداورہرایک بیٹےکو 35فیصد اور بیٹی کو 17.5فیصدحصے ملیں گے۔
اور روپے اورپیسہ کے لحاظ سے بیوہ کو 8لاکھ12ہزار500 ،اور ہرایک بیٹے کو22لاکھ 75 ہزار اور11 لاکھ 37 ہزار500 بیٹی کوملیں گے۔
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101796
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن