
ایک شخص نے پہلے ایک شادی کی، اس سے ایک بیٹاپیدا ہوا، اس کے بعدمیاں بیوی میں علیحدگی ہوگئی، اس کے بعد دوسری شادی کی، اس سے بھی دو بیٹیاںپیدا ہوئیں، اس کے بعد ان دونوں کے درمیان بھی لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے، حتٰی کہ شوہر نے مجبور ہو کر مذکورہ دوسری بیوی کو بھی طلاق دے دی، اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوگیا، ورثاء میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاںہیں، مرحوم کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
وضاحت :مرحوم کے والدین مرحوم کی حیات میں انتقال کرگئے تھے، نیز مرحوم اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دے چکے تھے اور ان کی عدت بھی گزر چکی ہے۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ قرض ہو، تو اس کی کل مال سے ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 4 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کے بیٹے کو دو حصے اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
صورتِ تقسیم درج ذیل ہے :
میت :4
| بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کے بیٹے کو 50 فیصد اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 25 فیصد حصہ ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102823
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن