بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 صفر 1448ھ 16 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹا اور ایک بیٹی میں والدین کے ترکہ کی شرعی تقسیم


سوال

میرے والدین  کا انتقال ہو گیا، ان کے ورثاء میں ایک بیٹا(سائل) اور ایک بیٹی ہیں، مرحومین  میں سے ہر ایک کے والدین (سائل کا دادا، دادی اور نانا ، نانی) مرحومین کی حیات میں ہی انتقال کر گئے تھے، والدہ کے ترکہ میں ایک دکان، جبکہ والد کے ترکہ میں ایک مکان ہے، مرحومین کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومین کے ترکہ  کی شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومین  میں سے ہر ایک کے حقوق ِمتقدمہ یعنی کفن دفن کے اخراجات اس کے ترکہ میں سے  نکالنے کے بعد، اگر مرحومین میں سے کسی  کے ذمہ کوئی  قرض ہو ، تو اس کے کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحومین میں سے کسی  نے کوئی جائز وصیت کی ہو،  تو اس کو اس کے  باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، باقی  ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے مرحومین کے بیٹے(سائل) کو دو حصے اور  مرحومین کی بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم درج ذیل ہے :

میت :سائل کے والدین :3

بیٹا(سائل)بیٹی
21

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومین کے بیٹے(سائل) کو 66.66 فیصد اور مرحومین کی بیٹی کو 33.33  فیصد حصہ ملے گا۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101760

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں