بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء
ایک بچے کے دو نام رکھ سکتے ہیں؟
ایک بچے کے دو نام بھی رکھے جاسکتے ہیں ،شرعًا اس میں حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144202200498
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔