بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک عورت کی دعا سے اس کا بچہ زندہ ہونا


سوال

ایک واقعہ بعض بیانات میں بیان کیا جاتا ہے کہ:

ایک عورت اسلام لائی، تو اس کے فوراً بعد اس کا بیٹا فوت ہو گیا۔ وہ عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: "یا رسول الله! میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ یہود اور مشرکین کہیں گے کہ یہ ایمان لے آئی تو اس کے ایمان لانے کی نحوست سے اس کا بیٹا مر گیا۔" تو آپ ﷺ نے اس عورت کے لیے دعا فرمائی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو زندہ کر دیا۔

کیا یہ واقعہ کسی مستند حدیث، سیرت یا معتبر اسلامی کتاب سے ثابت ہے؟ اگر یہ واقعہ ثابت نہیں، تو کیا اس طرح کے واقعات کو عوامی بیانات میں بیان کرنا درست ہے؟ یا یہ دین میں مبالغہ، من گھڑت قصہ، یا جھوٹ کے زمرے میں آئے گا؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ واقعہ کافی تلاش کے باوجود احادیث مبارکہ میں ہمیں نہیں ملا، لہذا جب تک کسی معتبر سند کے ساتھ یہ واقعہ مذکورہ تفصیل کے ساتھ کسی حدیث میں نہ مل جائے،  اس کو حدیث کے طور پر بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

البتہ روایت میں یہ بات منقول ہے کہ اس عورت نے خود دعا کی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کی برکت سے اس کا بچہ زندہ کر دیا۔ یہ روایت دلائل البیہقی میں منقطع سند کے ساتھ مذکور ہے۔

دلائل البیہقی میں ہے:

حضرت عبداللہ بن عون کہتے ہیں: حضرت انس ؓ نے فرمایا: میں نے اس اُمّت میں ایسی تین باتیں پائی ہیں کہ وہ اگر بنی اسرئیل میں ہو تیں توکوئی اُمّت ان کا مقابلہ اور ان کی برابری نہ کرسکتی۔ ہم نے کہا: اے ابوحمزہ! وہ تین باتیں کیا ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ایک مرتبہ ہم لوگ صفَّہ میں حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک مہاجر عورت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا جو کہ بالغ تھا۔ حضور ﷺ نے اس عورت کو (مدینہ کی) عورتوں کے سپرد کردیا اور اس کے بیٹے کو ہمارے ساتھ شامل کردیا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ مدینہ کی وبامیں مبتلاہوگیا اور چند دن بیمار رہ کر فوت ہوگیا۔ حضور ﷺ نے اس کی آنکھیں بند کیں اور ہمیں اس کا جنازہ تیار کرنے کا حکم دیا۔ جب ہم نے اسے غسل دینا چاہا تو حضورﷺ نے فرمایا: جاکر اس کی والدہ کو بتادو۔ چناںچہ میں نے اسے بتادیا۔ وہ آئی اور بیٹے کے پیروں کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے دونوں پائوں پکڑ کر اس نے یہ دعامانگی: اے اللہ! میں اپنی خوشی سے مسلمان ہوئی اور میرے دل کا میلان بتوں سےبالکل ہٹ گیا۔ اس لیے میں نے انھیں چھوڑاہے، اور تیری وجہ سے بڑے شوق سے میں نے ہجرت کی۔ اور مجھ پر یہ مصیبت بھیج کر بتوں کے پوجنے والوںکو خوش نہ کر اور جو مصیبت میں اٹھا نہیں سکتی وہ مجھ پر نہ ڈال۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ابھی اس کی والدہ کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ اس کے بیٹے نے اپنے قدموں کو ہلایا اور اپنے چہرے سے کپڑاہٹایا (اور زندہ ہوکر بیٹھ گیا) اور بہت عرصہ تک زندہ رہا یہاں تک کہ حضورﷺ کا انتقال ہوگیا اور اس کے سامنے اس کی ماں کا بھی انتقال ہوا۔ 

دلائل النبوة میں ہے:

أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي، حدثنا أبو أحمد محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق الحافظ، حدثنا أبو الليث سلم بن معاذ التميمي بدمشق، حدثنا أبو حمزة إدريس بن يونس، حدثنا محمد بن يزيد بن سلمة، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبد الله بن عون، عن أنس، قال: أدركت في هذه الأمة ثلاثا لو كانوا في بني إسرائيل لما تقاسمتها الأمم، لكان عجبا، قلن: ما هن يا أبا حمزة؟ قال: كنا في الصفة عند رسول الله صلى الله عليه وسلمفأتته امرأة مهاجرة ومعها ابن لها قد بلغ، فأضاف المرأة إلى النساء، وأضاف ابنها إلينا، فلم يلبث أن أصابه وباء المدينة، فمرض أياما ثم قبض، فغمضه النبي صلى الله عليه وسلم وأمر بجهازه، فلما أردنا أن نغسله، قال: «يا أنس، ائت أمه، فأعلمها» ، قال: فأعلمتها، فجاءت حتى جلست عند قدميه فأخذت بهما، ثم قالت: اللهم إني أسلمت لك طوعا، وخلعت الأوثان زهدا، وهاجرت إليك رغبة، اللهم لا تشمت بي عبدة الأوثان، ولا تحملني من هذه المصيبة ما لا طاقة لي بحملها، قال: فوالله ما تقضى كلامها حتى حرك قدميه، وألقى الثوب عن وجهه، وعاش حتى قبض الله رسوله صلى الله عليه وسلم، وحتى هلكت أمه. 

 )دلائل النبوة، باب ما جاء في المهاجرة إلى النبي صلى الله عليه وسلم التي أحيا الله تعالى بدعائها ولدها بعد ما مات، (6/151،152)، ط: دار الكتب العلمية)

البداية والنهايه میں ہے:

وقد رواه البيهقي، عن أبي سعيد الماليني، عن ابن عدي، عن محمد بن طاهر بن أبي الدميك، عن عبيد الله بن عائشة، عن صالح بن بشير المري، أحد زهاد البصرة وعبادها مع لين في حديثه، عن ثابت، عن أنس، فذكر القصة، وفيه أن أم السائب كانت عجوزا عمياء. قال البيهقي: وقد روى من وجه آخر مرسل. يعني فيه انقطاع بين ابن عون وأنس بن مالك.

)البداية والنهاية، قصة أخرى مع قصة العلاء بن الحضرمي، (9/51) ط : دار هجر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں