بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عید گاہ کے لیے وقف شدہ زمین پر مدرسہ بنانے کا حکم


سوال

 ایک عیدگاہ ہے،جو مکمل طور شہر کے اندر ہے،جہاں باقاعدہ عید کی نماز ہوتی ہے،اور وقتاً فوقتاً لوگ نماز جنازہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں،اور تعزیت کے لیے بھی اس جگہ کا استعمال ہوتا رہتا ہے۔کیا یہ جائز ہے؟اب کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ عید گاہ کے اوپر مدرسہ کی تعمیر کر دی جائے، کیوں کہ پورا سال جگہ خالی پڑی رہتی ہے ۔اس جگہ کو دین کے لیے استعمال کیا جاۓ۔اور عید کی نماز بھی ہوتی رہے،اور نمازیوں کو کوئی تکلیف بھی نہ ہو ،اور نہ ہی جگہ کی تنگی کا کوئی مسئلہ ہو گا،نیز علاقے کی جو صورتحال ہے،اور جس انداز سے مدرسہ کی تعمیر کا ارادہ ہے،اس سے آنے والے وقت میں عید کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہو گا،نا ہی نمازیوں کے لیے جگہ تنگ ہوگی،بلکہ خراب موسم اور بارش کی صورت میں نمازیوں کے لیے سہولت ہو گی ۔تو آیا اب یہاں دینی مدرسہ کی تعمیر کی جاسکتی ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ زمین عید گاہ کے لیے وقف ہو،تو پھر اس جگہ پر مدرسہ تعمیر کرنا جائز نہیں ہوگا،کیوں کہ جو جگہ جس مقصد کے لیے وقف کردی جاۓ،اسے اس مقصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعا ممنوع ہوتا ہے،البتہ اگر مذکورہ زمین کسی کی ذاتی ملکیت ہو،وقف شدہ نہ ہو،تو اس صورت میں اس پر مدرسہ کی تعمیر کے لیے اصل مالک سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به".

(کتاب الوقف، مطلب استأجر دارا فيها أشجار، ج:4، ص:433، ط:ایچ ایم سعید)

وفیه أیضا:

"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة".

(کتاب الوقف، مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة، ج:4، ص:445، ط:ایچ ایم سعید)

الفقه الاسلامي وادلته  میں ہے:

"إذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف، وصار حبيساً على حكم ملك الله تعالى، ولم يدخل في ملك الموقوف عليه وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه ولا قسمته."

(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي،ج:10، ص:7617، ط:دارالفکر )

درر الحكام في شرح مجلۃ الأحكام میں ہے:

"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي".

(المقالة  الثانية في بيان  القواعد  الكلية  الفقهية، ج: 1، ص:98، ط: دار الجيل)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101971

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں