
عید الفطر یا عیدالاضحٰی کی نماز پڑھانے والے امام کو پیسے دینے چاہییں یا نہیں؟
واضح رہے کہ فرض نماز پڑھانے (یعنی امامت) کی اجرت لینے کو متأخرینِ احناف نے بوجہ ضرورت جائز قرار دیا ہے، لیکن یہ اجرت اصل میں نماز پڑھانے کی نہیں ہوتی، بلکہ اس كام ميں اپنے آپ کو محبوس كرنے اور دیگر کاموں سے فارغ رکھ کر وقت دینے کی ہے ،اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص عیدین کی نماز پڑھاکر طے کردہ اجرت لے تو یہ جائز ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"أن أخذ الأجرة على الطاعة لا يجوز مطلقا عند المتقدمين، وأجاز المتأخرون على تعليم القرآن والأذان والإمامة."
(ج:2، ص: 199، ط: دارالفکر بیروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144212200452
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن