بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عیدین کی امامت پر معاوضہ دینا


سوال

عید الفطر یا عیدالاضحٰی کی نماز پڑھانے والے امام کو پیسے دینے چاہییں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نماز پڑھانے  (یعنی امامت)  کی اجرت لینے کو متأخرینِ احناف نے بوجہ ضرورت جائز قرار دیا ہے، لیکن یہ اجرت اصل میں نماز  پڑھانے کی نہیں ہوتی، بلکہ اس كام ميں اپنے آپ کو محبوس  كرنے اور دیگر کاموں سے فارغ رکھ کر وقت دینے کی ہے ،اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص    عیدین کی نماز  پڑھاکر طے کردہ اجرت لے تو یہ جائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"أن أخذ ‌الأجرة ‌على ‌الطاعة لا يجوز مطلقا عند المتقدمين، وأجاز المتأخرون على تعليم القرآن والأذان والإمامة."

(ج:2، ص: 199، ط: دارالفکر بیروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144212200452

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں