بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کے دن روزی کمانے کے لیے مزدوری کرنے کا حکم


سوال

میں فوڈ پانڈا (Foodpanda) میں بطور رائڈر کام کرتا ہوں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشی اور عبادت کا دن ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ:

​۱۔  کیا عید کے ان مبارک دنوں میں رزقِ حلال کمانے کی نیت سے کام یا ڈیوٹی کرنا شرعاً درست ہے؟

۲۔ عید کے موقع پر کمپنی کی طرف سے اچھا بونس ملتا ہے، کیا اس اضافی منافع کی خاطر عید کی نماز ادا کرنے کے بعد کام کرنا جائز ہے؟ ​

رہنمائی فرما دیں کہ عید کے دن کاروبار یا مزدوری کرنے میں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عید کے دن کاروبار یا مزدوری کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، لہذا سائل عید کی نماز ادا کرنے کے بعد ڈیوٹی کر سکتا ہے، بلکہ رزقِ حلال کمانے کی نیت سے ڈیوٹی کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «طلب كسب الحلال ‌فريضة ‌بعد ‌الفريضة» ."

(کتاب البیوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج:2، ص:847، ط:المكتب الإسلامي)

”حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حلال مال کا طلب کرنا(اصل) فرائض کے بعد فرض ہے۔“

مرقاۃ المفتاتیح میں ہے:

"(قال: قال رسول الله، صلى الله عليه وسلم (طلب كسب الحلال فريضة) : أي على من احتاج إليه لنفسه، أو لمن يلزم مؤنته، والمراد بالحلال غير الحرام المتيقن ليشمل المشتبه لما مر في الأحاديث: أن التنزه عن المشتبه احتياط لا فرض، ثم هذه الفريضة لا يخاطب بها كل أحد بعينه، لأن كثيرا من الناس تجب نفقته على غيره، وقوله (بعد الفريضة) : كناية عن أن فرضية طلب كسب الحلال لا تكون في مرتبة فرضية الصلاة والصوم والحج وغيرها، فالمعنى أنه ‌فريضة ‌بعد ‌الفريضة العامة الوجوب على كل مكلف بعينه، وقيل: معناه أنه فريضة متعاقبة يتلو بعضها البعض لا غاية لها، إذ كسب الحلال أصل الورع وأساس التقوى".

(کتاب البیوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1904، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101760

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں