
عید کے دن فوت شدہ کے گھر جا کر اس کے لیے دعا کرنا کیسا ہے؟ حالاں کہ مرے ہوۓ کو ایک سال ہو گیا ہے۔
واضح رہے ميت كے لیے دعائے خیر كرنا نہ صرف جائز اور امرِ مشروع ہے، بلكہ اس كے لیے مغفرت، رفعِ درجات اور اخروی نعمتوں کے حصول کا باعث بھی ہے۔ نیز شریعت میں تعزیت (یعنی میت کے اعزہ و اقارب کو صبر و تسلی کی تلقین) کے لیے موت کے بعد سے تین دن تک کا وقت مقرر ہے، تین دن کے بعد تعزیت مکروہ ہے۔ البتہ اگر کوئی اس دوران غیر موجودگی کی وجہ سے تعزیت نہ کرسکا، تو ایسی صورت میں تین دن کےبعد بھی تعزیت کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم ایک مرتبہ تعزیت کے بعد دوبارہ تعزیت کرنا شرعًا درست نہیں ہے۔
لہٰذا جو لوگ اہلِ میت سے عید سے قبل تعزیت کر چکے ہوں تو خاص طور پر عید میں دوبارہ تعزیت کرنا اور تعزیت کی غرض سے فوت شدہ کے گھر جاکر اس کے لیے دعا مکروہ عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
تاہم اگر کسی کا فوتگی والے گھر سے قریبی رشتہ ہو اور وہاں آنا جانا کثرت سے ہوتا ہو، تو تعزیت کی نیت کے بغیر عید کے دن ان سے ملنے جانے اور میت کے لیے دعائے خیر کرنے میں شرعًا کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ وہاں سوگ کا ماحول نہ ہو۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"التعزية لصاحب المصيبة حسن، كذا في الظهيرية، وروى الحسن بن زياد إذا عزى أهل الميت مرة فلا ينبغي أن يعزيه مرة أخرى، كذا في المضمرات. ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت التعزية."
(کتاب الصلاة، الباب الحادي و العشرون، الفصل السادس، ج:1، ص:167، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611101929
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن