بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

احرام میں مذکورہ ماؤتھ واش کے استعمال کا حکم


سوال

عرض یہ ہے کہ دیسی جڑی بوٹیوں سے بنا ہوا ماؤتھ واش بنا کر مارکیٹ میں سپلائی کرتا ہوں ۔ اس میں کسی قسم کا کوئی کیمیکل استعمال نہیں ہوتا ہے، یہ منہ کی صفائی اور بدبو دور کرتا ہے اور اس میں جڑی بوٹیوں کی ہلکی سی قدرتی مہک کے علاوہ کسی اور  طرح کی مصنوعی خوشبو نہیں ہوتی۔ یہ ماؤتھ واش سعودی حکومت سے منظور شدہ بھی ہے۔  آپ سے دریافت یہ کرنا ہے  کہ کیا یہ ماؤتھ  واش حج اور عمرہ پر جانے والے احباب احرام کی حالت میں اس ماؤتھ واش کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے اجزائے ترکیبی حسب ذیل ہے:

۱) لونگ، ۲) کلونجی، ۳) گنے کے رس کا سرکہ، ۴) ابلا ہوا پانی (۹۶ فیصد)، ۵) پودینہ کا تیل (انتہائی معمولی مقدار میں یعنی 0.04 فیصد)

وضاحت: 

10 لیٹر کے پانی میں لونگ اور کلونجی ابالا جاتا ہے۔ پھر 28 لیٹر سادہ پانی ڈالا جاتا ہے۔پھر 2.5لیٹر گنا کا رس ، پودینہ کا تیل 25 ایم ایل اخیر میں ڈالا جاتا ہے۔کل ملا کر 40 لیٹر  کی بوتل بنتی ہے۔

جواب

سائل کی فراہم کردہ معلوم کے مطابق مذکورہ ماؤتھ واش میں لونگ، کلونجی اور پودینہ کا تیل استعمال ہے، یہ تینوں اجزاء خوشبو کے قبیل سے ہیں،لہذا احرام میں اس ماؤتھ واش کا استعمال جائز نہیں ہے۔نیز مذکورہ طریقہ ترکیب میں چونکہ یہ خوشبو والےاجزاء مغلوب ہیں اور سادہ پانی غالب (40 لیٹر میں سے 28 لیٹر) غالب ہے، لہذا اس ماؤتھ واش کے ایک مرتبہ استعمال سے صدقہ لازم ہوگا اور ایک ہی مجلس میں بار بار استعمال سے دم لازم ہوگا۔

غنیۃ الناسک میں ہے:

" وإن خلطه بمشروب كالهيل والقرنفل بالقهوة فالحكم للطيب مائعا كان أو جامدا، فإن كان الطيب غالبا يجب دم إن شرب كثيرا وإلا فصدقة، وإن كان مغلوبا فصدقةٌ إلا أن يشربه مرارا قدم إن اتحد المجلس، وإلا فلكل مرة صدقة اهـ.

حاصل ما في «الفتح» - وهو قول الأكثر - : لم يفرقوا في المشروب بين أن يكون مطبوخا أو لا بخلاف المأكول، وفرقوا بينما يؤكل بلا طبخ وبين المشروب إذا خلطا بطيب مغلوب بأنه لا شيء في الأول وفي الثاني صدقة.قال في البحر: وينبغي التسوية بينهما إما بعدم شيء أصلا أو بوجوب الصدقة فيهما، وقد سوى "الحلبي" بينهما بأنه إن أكل منه أو شرب كثيرا فصدقة وإلا فلا شيء عليه اهـ.

وإذا خلطه بغير المأكول والمشروب بما يستعمل في البدن كأشنان ونحوه فحكمه كحكم خلطه بالمشروب (كبير) (1) وغيره .

[أنواع الخلط]

والخلط ثلاثة أنواع:1. خلط الجامد بالجامد كالزعفران بالملح.2. وخلط المائع بالمائع كالماورد بالشراب.3. وخلط الجامد بالمائع كالزعفران بالشراب.

وفرق الغالب من المغلوب فيها بكثرة الأجزاء، وقد لا تعرف خصوصا في خلط الجامد بالمائع، فإن وجد من المخالط رائحة الطيب كما قبل الخلط وحسن الذوق السليم بطعمه فيه حسا ظاهرا فهو غالب وإلا فهو مغلوب."

(باب الجنایات،ص :386،المصباح)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وبعده) أي الإحرام بلا مهلة (يتقي الرفث) أي الجماع أو ذكره بحضرة النساء (والفسوق) أي الخروج عن طاعة الله (والجدال) فإنه من المحرم أشنع (وقتل صيد البر) لا البحر (والإشارة إليه) في الحاضر (والدلالة عليه في الغائب) ومحل تحريمهما إذا لم يعلم المحرم، أما إذا علم فلا في الأصح (والتطيب) وإن لم يقصده وكره شمه

قوله وإن لم يقصده) قيل عليه التطيب معمول لقوله يتبقى، ولا معنى لأمر غير القاصد بالاتقاء فيجاب بأن المراد غير قاصد للتطيب بل قاصد للتداوي ومع ذلك يكون محظورا عليه فعليه اتقاؤه رحمتي (قوله وكره شمه) أي فقط فلا شيء عليه به كما في الخانية، وبهذا يشير إلى أن المراد بالتطيب استعماله في الثوب والبدن وقالوا لو لبس إزارا مبخرا لا شيء عليه لأنه ليس بمستعمل لجزء من الطيب وإنما حصل مجرد الرائحة ومن ثم قال في الخانية لو دخل بيتا قد بخر فيه واتصل بثوبه شيء منه لم يكن عليه شيء نهر."

(کتاب الحج، ج:2،ص:486،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں