بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

احرام کی حالت میں طواف کے دوران حجرہ اسود کو چھونا


سوال

احرام کی حالت میں طواف کرتے ہوئے حجرہ اسود کو چھونے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر حجر اسود کی خوشبو لگ جائے تو اس کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

حجر اسود پر چوں کہ خوش بو لگی ہوئی ہوتی ہے؛ اس لیے احرام کی حالت میں اس کا بوسہ لینا یا چھونا جائز نہیں ہے، البتہ حالتِ احرام میں حجر اسود کو بوسہ دینے کی وجہ سے دم کے واجب ہونے کا مدار کثرت پر ہے، یعنی اگر خوش بو زیادہ لگ گئی تو دم واجب ہوگا اور اگر قلیل مقدار میں لگی ہے تو  صدقہ کرنا لازم ہوگا،دم واجب نہیں ہوگا،قلیل اور کثیر کے معیار کے بارے میں متعدد اقوال ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دینے کی صورت میں دیکھا جائے گا کہ اگر نفسِ خوش بو  کی مقدار زیادہ ہو تو ہونٹوں کے چوتھائی حصے پر وہ خوش بو  لگنے سے بھی دم واجب ہوجائے گا، لیکن اگر نفسِ خوش بوکی مقدار کم ہو تو کامل عضو (ہونٹوں ) پر لگنے کی صورت میں دم لازم ہوگا اور اس سے کم میں صدقہ لازم ہوگا، یعنی صدقہ فطر (یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) کے برابر صدقہ دیناواجب ہوگا، نیزجس صورت میں دم لازم ہو اس میں وہیں دم  (بکرا، دنبہ یا بڑے جانور کا ساتوں حصہ ذبح کرنا )  حدودحرم  میں دینالازم ہوگا ، اس کے بدلے قیمت وغیرہ دینے سے دم ادا نہیں ہوگا ، اور جس صورت میں صدقہ لازم ہو اس میں وہی چیز صدقہ کرنا لازم نہیں اس کے بدلے میں قیمت بھی ادا کرسکتاہے ۔

الفتاوى الهنديه ميں ہے:

"فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيراً فاحشاً ففيه الدم، وإن كان قليلاً ففيه الصدقة، كذا في المحيط. واختلف المشايخ في الحد الفاصل بين القليل والكثير، فبعض مشايخنا اعتبروا الكثرة بالعضو الكبير نحو الفخذ والساق، وبعضهم اعتبروا الكثرة بربع العضو الكبير، والشيخ الإمام أبو جعفر اعتبر القلة والكثرة في نفس  الطيب، إن كان الطيب في نفسه بحيث يستكثره الناس ككفين من ماء الورد وكف من الغالية والمسك بقدر ما استكثره الناس فهو كثير، وما لا فلا، والصحيح أن يوفق ويقال: إن كان الطيب قليلاً فالعبرة للعضو لا للطيب، حتى لو طيب به عضواً كاملاً يكون كثيراً يلزمه دم وفيما دونه صدقة، وإن كان الطيب كثيراً فالعبرة للطيب لا للعضو، حتى لو طيب به ربع عضو يلزمه دم، هكذا في محيط السرخسي والتبيين."

(كتاب المناسك، الباب الثامن ، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن، ج: 1،ص: 240، ط: دار الفكر)

المحيط البرهاني میں ہے:

"وقال في المحرم: إذا مس الطيب أو استلم الحجر فأصاب يده خلوق، إن كان ما أصابه كثير فعليه الدم."

 (كتاب المناسك،‌‌ الفصل الخامس: فيما يحرم على المحرم بسبب إحرامه وما لا يحرم، ج: 2، ص: 453، ط: دار الكتب العلمية)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وذكر في المنتقى إذا طيب شاربه أو طرفا من أطراف لحيته دون الربع فعليه الصدقة. وإن استعمل الطيب في ربع رأسه فعليه الدم، وكذلك في ربع عضو آخر وجعل الربع بمنزلة الكمال على قياس الحلق."

(كتاب المناسك، باب الدهن والطيب، ج: 4، ص: 122، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101585

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں