
ایک شخص نے عیدگاہ کے لیے ایک جگہ وقف کی تھی،جس میں عید کی نمازیں ادا کی جاتی رہیں، اب وہ شخص اس عید گاہ کی جگہ پر مسجد بنانا چاہتاہے، ایسی جگہ پر مسجد کا بیت الخلاء وغیرہ بھی بنانا چاہتا ہے، سوال یہ ہےکہ موقوفہ عیدگاہ کی جگہ پر مسجد اور بیت الخلاء وغیرہ بنانا جائز ہےیا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی زمین مدرسہ یا مسجد یا عید گاہ کے لیے وقف کردی گئی، اور متولی یا ذمہ داران کے حوالہ کردی گئی، تو یہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں آ جاتی ہے، وقف مکمل ہونے کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں ہوتی، خود واقف کو بھی اس میں رد و بدل کرنے کاحق نہیں ہوتا، ہاں اگر اس نے وقف کرتے ہوئے ضرورت کے وقت وقف کی جہت تبدیل کرنے کی شرط رکھی ہو، تو حسب منشاء وہ جہتِ وقف میں تبدیلی کرسکتا ہے، ورنہ نہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقف نے وقف کرتے وقت جہت وقف میں تبدیلی کی شرط نہیں لگائی تھی ،تومذکورہ جگہ عیدگاہ کےلیے استعمال کرناضروری ہوگا،عید گاہ کی جگہ پر مسجد اور بیت الخلاء وغیرہ بنانا جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"عید گاہ کی زمین میں مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔ "شرط الواقف کنص الشارع"؛ لہذا عید گاہ کی زمین میں اس مسجد کی توسیع نہ کی جائے۔"
(کتاب الوقف، ج: 10، ص: 105، ط: ادارۃ الفاروق)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال، وأطنب فيها عليه الاستدلال وهو مأخوذ من الفتح أيضا كما سنذكره عند قول الشارح لا يجوز استبدال العامر إلا في أربع ويأتي بقية شروط الجواز.
وأفاد صاحب البحر في رسالته في الاستبدال أن الخلاف في الثالث، إنما هو في الأرض إذا ضعفت عن الاستغلال بخلاف الدار إذا ضعفت بخراب بعضها، ولم تذهب أصلا فإنه لا يجوز حينئذ الاستبدال على كل الأقوال قال: ولا يمكن قياسها على الأرض فإن الأرض إذا ضعفت لا يرغب غالبا في استئجارها بل في شرائها أما الدار فيرغب في استئجارها مدة طويلة لأجل تعميرها للسكنى على أن باب القياس مسدود في زماننا وإنما للعلماء النقل من الكتب المعتمدة كما صرحوا به."
(کتاب الوقف ،مطلب فی استبدال الوقف و شروطه جلد 4 ص: 384/385 ط: دارالفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لايجوز كذا في الغياثية."
(کتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع،ج:6،ص:362، ط: دار الفكر)
البحر الرائق میں ہے:
"شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه."
(كتاب القضاء، باب كتاب القاضي إلى القاضي وغيره:ج:7،ص:14، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100712
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن