
ایک عالم جو کہ حکیم اور عامل بھی ہیں۔ شیاطین اور آسیب و نظرِ بد ہٹانے کے لیے جو نقش دے رہے ہیں۔ اُن پر لکھا ہے، ابلیس، نمرود، شداد، فرعون، ہامان وغیرہ۔ انہوں نے کہا روز ایک نقش اپنے پورے جسم پر مل کر جلا کر راکھ کرلیں۔
کیا یہ جائز ہے؟
واضح رہے کہ عملیات اور تعویذات بھی دیگر علاج ومعالجہ کی طرح علاج کی ایک قسم ہے، اس کے ذریعے علاج کرنا اور کروانا اور تعویذ استعمال کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
(1) ان کا معنی ومفہوم معلوم ہو، (2) ان میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو، (3) ان کے مؤثر بالذات ہونے کا اعتقاد نہ ہو ، (4) عملیات کرنے ولا علاج سے واقف اور ماہر ہو، فریب نہ کرتا ہو۔ (5) کسی بھی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑتا ہو۔
لہذا ایسے تعویذ اور عملیات جو آیاتِ قرآنیہ، ادعیہ ماثورہ یا کلمات صحیحہ پر مشتمل ہوں ان کو لکھنا، استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے، اور جن تعویذوں میں کلماتِ شرکیہ یا کلماتِ مجہولہ یا نامعلوم قسم کے منتر لکھے جائیں یا ا نہیں مؤثرِ حقیقی سمجھا جائے ان کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے۔
باقی ابلیس - نمرود- شداد- فرعون وغیرہ نام جو قرآن مجید میں مذکور ہیں، وہ الفاظ قرآن مجید کے نظم میں آنے کے وقت قرآن کے دیگر الفاظ کی طرح حکم رکھتے ہیں، لیکن مستقل ان ناموں میں کوئی تبرّک نہیں ہے، اور یہ سب نام چوں کہ شیاطین اور کفار کے سرغنوں کے ہیں، اس لیے ان کے چیلوں کو سرکشی سے باز رکھنے اور ان کے شریر اثرات ختم کرنے کے لیے اس طرح کے مخصوص نقش کو جلایا جانا تجربات کی بنیاد پر ہوتا ہے، لہذا اگر یہی مقصود ہو اور کوئی مسلمان ، دین دار ،ماہر فن، عامل اس طرح کا تعویذ لکھ کر دے تو اس کو جلانا جائز ہوگا۔ جیساکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے عملیات اور تعویذات کے افادات پر مشتمل کتاب ” عملیات و تعویذات اور اس کے شرعی احکام“ میں جادو اور آسیب کو دور کرنے کے لیے جو نقش منقول ہیں، جس کے آخر میں یہ الفاظ درج ہیں:
"فرعون، قارون، ھامان، شداد، نمرود، ابلیس۔۔عليه اللعنة واتباع ايشان اگرنه گريزند سوخته شوند"
(ص: 264، باب:16، ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ )
فتاوی شامی میں ہے:
"[فرع] في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير العربية.(قوله: التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب: وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم، وليس كذلك! إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال: رقاه الراقي رقياً ورقيةً: إذا عوذه ونفث في عوذته، قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو، ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به. "
(کتاب الحظر والإباحة، فصل فی اللبس، ج: 6، ص: 363، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100331
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن