بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے پر ملنے والے فری منٹس کا حکم


سوال

کیا ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے پر  ملنے والے منٹ لینا سود ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم قرض ہے، اور  احادیث کی روشنی میں یہ ضابطہ بھی مسلّم ہے کہ   قرض دے کر اس سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے، بعض روایات میں اسے صراحتاً ’’ربا‘‘  کہا گیا ہے اور بعض صحیح روایات میں اسے ’’ربا‘‘  میں شامل کیا گیا ہے؛ اس لیے  ٹیلی نار ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا اور اکاؤنٹ ہولڈر کا  قرض کے بدلے کمپنی  کی طرف سے دی جانے والی سہولیات (فری منٹ، ایس ایم ایس اور فری ایم بی وغیرہ) وصول کرنا اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔   

"عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ، إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا". ( صحیح البخاری 3814)
ترجمہ: سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ حاضرہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا:  کیا آپ (ہمارے پاس) نہیں آئیں گے  کہ میں آپ کو  ستواورکھجورکھلاؤں اورآپ ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہوں (جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے تھے)  پھر آپ نے فرمایا: تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں، اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اورپھروہ تمہیں ایک تنکے یاجوکے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا؛ کیوں کہ وہ بھی سود ہے۔

مصنف ابن أبي شيبة (4/ 327):

"عن إبراهيم، قال: «كل قرض جر منفعة، فهو ربا»".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں