بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی لوڈ کا کام کرنے والے شخص کے لیے لوگوں کو ایسا پیکج لگاکر دینے کا حکم جس کے ذریعے صرف ٹِک ٹاک ایپ ہی چلائی جاسکتی ہے


سوال

ایزی لوڈ کا کام کرنے والے کے لیے لوگوں کو انٹرنیٹ کا ایسا پیکج لگاکر دینا جو صرف ٹِک ٹاک چلانے کے ساتھ خاص ہو کیسا ہے؟

یعنی جس پیکج پر صرف ٹک ٹاک ہی چلتا ہو ایسا پیکج لگاکر دینا شرعاً کیسا ہے؟ کیا دکان دار کا ایسا پیکج کر کے دینا تعاون علی المعصیۃ کے زمرے میں تو نہیں آتا ہے؟

جواب

ٹک ٹاک (Tik Tok ) سے متعلق  جو معلومات دست یاب ہوئی ہیں، ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ  ٹک ٹاک (Tik Tok ) دورِ حاضر میں بڑھتا ہوا سوشل میڈیا کا ایک انتہائی خطرناک فتنہ ہے، اس ایپ کا شرعی نقطہ نظر سے استعمال قطعاً   ناجائز ہے، اس کے چند مفاسد درج ذیل ہیں:

1۔۔ اس میں جان دار کی تصویر سازی اور ویڈیو سازی  ہوتی ہے، جو شرعاً حرام ہے۔

2۔۔اس میں عورتیں انتہائی بے ہودہ ویڈیو بناکر پھیلاتی  ہیں۔

3۔۔ نامحرم کو دیکھنے کا گناہ۔

4۔۔ میوزک اور گانے کا عام استعمال ہے۔

5۔۔ مرد وزن  ناچ گانے پر مشتمل ویڈیو بناتے ہیں۔

6۔۔ فحاشی اور عریانی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔

7۔۔ وقت کا ضیاع ہے، اور لہو لعب ہے۔

8۔۔ علماء اور مذہب کے مذاق اور استہزا  پر مشتمل ویڈیو اس میں موجود ہیں۔ بلکہ ہر چیز کا مذاق اور استہزا  کیا جاتا ہے۔

9۔۔ نوجوان بلکہ بوڑھے بھی پیسے کمانے کے چکر میں طرح طرح کی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جنہیں کوئی سلیم الطبع شخص گوارا  تک نہ کرے۔

یہ سب شرعاً ناجائز امور ہیں، لہذا کسی بھی مقصد کے لیے اس (ٹِک ٹاک) ایپلی کیشن کا استعمال جائز نہیں ہے، اس لیے ایزی لوڈ والے دکان دار کے لیے لوگوں کو ایسا پیکج لگاکر دینا جائز نہیں ہوگا جس کے ذریعے صرف ٹِک ٹاک ہی چلایا جاسکتا ہو، کیوں کہ اس معصیت (گناہ) کے کام میں مدد کرنا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع فرمایا ہے۔

مسلمانوں کے اندر فحاشی ، عریانی، بد  تہذیبی پھیلانے، اور انہیں اپنے دین سے دوری کے لیے اغیار اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، مسلمانوں کو ان فتنوں کو سمجھنا چاہیے، اور اس ایپلی کیشن کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے، اس کی کسی بھی ویڈیو کو آگے شئیر کرنے سے مکمل اجتناب کرنا لازم ہے۔

  قرآن مجید میں ہے:

"{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} "[ المائدة:2]

ترجمہ :”اورنیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہواور گناہ زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں”۔(از بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى:{وتعاونوا على البر والتقوى}يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى:{ولا تعاونوا على الأثم والعدوان}نهي ‌عن ‌معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(المائدة، ج:3، ص:296، ط: دار إحياء التراث العربي)

لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"(عبد الله بن مسعود) قوله: (أشد الناس عذابا عند الله المصورون) ليس في هذه الرواية (إن) ولا (من)، ولكن معنى (من) مراد، أو المراد أشد الناس استحقاقا للعذاب عنده تعالى هؤلاء لكمال غضبه وسخطه عليهم، وفي بعض الروايات: (إن من)، ويشكل عليه رفع (المصورون)، فيقال: ضمير الشأن مقدر، وقيل: (من) زائدة، ولكن في تأثير الزيادة في عدم جريان الأحكام اللفظية خفاء، فتدبر.ثم قالوا: إن هذا الوعيد في حق من يصور الأصنام لتعبد من دون الله، ولا شك أن هذا الشخص كافر أشد كفرا يستحق أشد العذاب، وقيل: من يفعل ذلك على قصد المضاهاة والمشابهة بالله في خلقه، وهو أيضا كافر كالأول، ومن لم يفعل لهذا فهوفاسق لا كافر، وحكمه حكم سائر مرتكبي المعاصي، ثم اتفقوا على أن المراد تصوير الحيوانات دون الأشجار والأنهار ونحو ذلك، والمتعارف إطلاق المصور على الأول، ويقال للثاني: النقاش، وكره مجاهد تصوير الأشجار المثمرة أيضا، وعند الجمهور وإن لم يكن تصوير الأشجار ونحوها حراما، ولكنه لا يخلو عن كراهة؛ لأنه من باب اللهو واللعب والاشتغال بما لا يعني."

(کتاب اللباس، باب التصاویر، الفصل الاَول، ج:7، ص:461، ط:دار النوادر، دمشق)

فتاوی شامی میں ہے :

"وظاهر کلام النووي في شرح مسلم الاجماع علي تحریم تصویر الحیوان، وقال: وسواء صنعه لما یمتھن او لغیرہ ، فصنعته حرام بکل حال، لان فیه مضاهاۃ لخلق اللہ تعالیٰ وسواء کان في ثوب او بساط او درهم واناء وحائط وغیرھا اھ  فینبغي ان یکون حراما لا مکروھا ان ثبت الاجماع او قطعیة الدلیل بتواترۃ  اھ کلام البحر ملخصا."

(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ، 2/ 502، ط: رشیدیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"اختلفوا في التغني المجرد قال بعضهم إنه حرام مطلقا والاستماع إليه معصية وهو اختيار شيخ الإسلام ولو سمع بغتة فلا إثم عليه ومنهم من قال لا بأس بأن يتغنى ليستفيد به نظم القوافي والفصاحة ومنهم من قال يجوز التغني لدفع الوحشة إذا كان وحده ولا يكون على سبيل اللهو وإليه مال شمس الأئمة السرخسي ولو كان في الشعر حكم أو عبر أو فقه لا يكره كذا في التبيين. وإنشاد ما هو مباح من الأشعار لا بأس به وإذا كان في الشعر صفة المرأة إن كانت امرأة بعينها وهي حية يكره وإن كانت ميتة لا يكره وإن كانت امرأة مرسلة لا يكره وفي النوازل. قراءة شعر الأديب إذا كان فيه ذكر الفسق والخمر والغلام يكره والاعتماد في الغلام على ما ذكرنافي المرأة كذا في المحيط. قيل إن معنى الكراهة في الشعر أن يشتغل الإنسان به فيشغله ذلك عن قراءة القرآن والذكر أما إذا لم يكن كذلك فلا بأس به إذا كان من قصده أن يستعين به على علم التفسير والحديث كذا في الظهيرية."

(كتاب الكراهية، الباب السابع عشر في الغناء واللهو وسائر المعاصي والأمر بالمعروف،5/ 351، ط:دار الفکر بیروت)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وفي فتاوى أهل سمرقند» استماع صوت الملاهي كالضرب بالقصب، وغير ذلك من الملاهي حرام، وقد قال عليه السلام: «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها من الكفر» وهكذا خرج على وجه التشديد بعظم الذنب؛ قالوا: إلا أن يسمع نفسه فيكون معذورا، والواجب على كل أحد أن يجتهد حتى لا يسمع."

(کتاب الاستحسان و الکراهية، الفصل الثامن عشرفی الغناء و اللھو و سائر المعاصی و الأمر بالمعروف،5/ 369، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي السراج ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام ويدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر قال ابن مسعود صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه» وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره اهـ أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار أو للاستحلال كما في النهاية."

(کتاب الحظر و الإباحة،ج:6، ص:348، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)

جواہر الفقہ میں ہے:

"ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصبة بنص القران كقوله تعالى: " لاتسيوا الذين يدعون من دون الله "، وقوله تعالى " فلا يخضعن بالقول "، وقوله تعالى " لا تبرجن " الآية، وان لم يكن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في اقامة المعصية به إلى احداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من اهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد من يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط ان يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فانه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة،وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من اهل الفتنة وامثالها فتكره تنزيها."

(تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام، ج:2، ص:439 الى 453، ط: مكتبة دارالعلوم)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں