بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عیسائیوں کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پینا


سوال

کسی ادارے یا کمپنی میں اگر عیسائی اور مسلمان اکٹھے کام کرتے ہوں تو کیا وہ ایک ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں؟ ایک پلیٹ میں یا ایک گلاس میں پانی پی سکتے ہیں؟

جواب

اگر برتن میں کوئی نجاست نہ ہو اور عیسائیوں کے منہ، یا ہاتھ پر بھی کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو اور کھانے پینے میں بھی کسی حرام چیز کی آمیزش نہ ہو، تو عیسائی کے ساتھ کبھی کبار ایک برتن میں کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ ان کے ساتھ مستقل کھانے پینے کو عادت بنانا درست نہیں ہے، مکروہ ہے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

فتاوی بزازیہ میں ہے:

"والأكل مع الكفار لو ابتلى به المسلم لابأس لو مرة أو مرتين، أما الدوام عليه يكره."

(الفتاوى البزازية، كتاب الكراهية، الفصل الثالث فيما يتعلق بالمناهي (6/ 359)، ط. رشيديه، كوئته، باكستان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں