
کسی ادارے یا کمپنی میں اگر عیسائی اور مسلمان اکٹھے کام کرتے ہوں تو کیا وہ ایک ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں؟ ایک پلیٹ میں یا ایک گلاس میں پانی پی سکتے ہیں؟
اگر برتن میں کوئی نجاست نہ ہو اور عیسائیوں کے منہ، یا ہاتھ پر بھی کوئی نجاست نہ لگی ہوئی ہو اور کھانے پینے میں بھی کسی حرام چیز کی آمیزش نہ ہو، تو عیسائی کے ساتھ کبھی کبار ایک برتن میں کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ ان کے ساتھ مستقل کھانے پینے کو عادت بنانا درست نہیں ہے، مکروہ ہے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
فتاوی بزازیہ میں ہے:
"والأكل مع الكفار لو ابتلى به المسلم لابأس لو مرة أو مرتين، أما الدوام عليه يكره."
(الفتاوى البزازية، كتاب الكراهية، الفصل الثالث فيما يتعلق بالمناهي (6/ 359)، ط. رشيديه، كوئته، باكستان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610101225
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن