بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایڈز دیکھ کر پیسہ کمانا


سوال

میں ایک ایڈورٹائز منٹ کمپنی کے ساتھ 1 لاکھ روپے لگاتا ہوں، تو روزانہ مجھے 5 اشتہار دیکھنے ہوں گے، اور روزانہ 500 روپے ملیں گے، اگر اشتہار چھوٹ جائیں تو پیسے نہیں ملتے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

سوال میں مذکورہ طریقہ کار  پر کام کرکے پیسہ کمانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

1- اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، جیسا کہ آپ ویڈیو میں مختلف اشتہار دیکھتے ہیں۔  بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے اور خریدنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔

2- ان اشتہارات میں عمومًا جان دار کی تصویر شامل ہوتی ہیں جو کہ  کسی بھی طرح کی ہو، اور کسی کی بھی ہو، بلا ضرورت  اس کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس محنت کرنے  پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔

3- مزید یہ کہ آپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی  کہ  لی جانے والی رقم کس مد میں لی جاتی ہے؟ اگر یہ کسی قسم کی سرمایہ کاری ہے،تو اس رقم سے کون سا  کاروبار کیا جاتا ہے؟یہ بھی واضح نہیں۔نیز اگر یہ 500 روپے انویسمنٹ کی مد میں ہیں تو یہ سودی لین دین ہی کی ایک شکل ہے؛ لہٰذا  حلال کمائی کے لیے کسی بھی  ایسے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے   کہ جس میں اپنی محنت شامل ہو ایسی کمائی زیادہ بابرکت ہوتی ہے، البتہ ایڈز (اشتہارات) دیکھ کر آپ اتنے پیسے وصول کر سکتے ہیں جتنے آپ نے جمع کروائے تھے، جمع کروائی گئی رقم سے زیادہ رقم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے:

شعب الإيمان (2/ 434):

" عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ ".

ترجمہ:آپ ﷺ سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟تو آپ ﷺنے فرمایا: آدمی کا  خود  اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (7/ 2112):

" قوله: ((مبرور)) أي مقبول في الشرع بأن لايكون فاسدًا، أو عند الله بأن يكون مثابًا به".

شامی(6/ 63):

"مطلب في أجرة الدلال، قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم .

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام".

الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 290):

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لا يستحق به أجرة . ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً ؛ لأنه انتفاع بمحرم ... ولايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها ، ولا على حمل الخنزير". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں