
میں ایک ادارے میں اجیرِ خاص ہوں۔ ادارے کے ایک اسٹور کے کاؤنٹر پر ڈیوٹی ہوتی ہے۔ کاؤنٹر سنبھالتے ہوئے میں اپنی تلاوت اور کسی کتاب کا مطالعہ بھی اس طرح جاری رکھتا ہوں کہ ڈیوٹی کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی واقع نہیں ہونے دیتا۔ کیا میرے لئے اس طرح کرنا جائز ہے؟ کیونکہ اگر میں ان معمولات میں مصروف نہ رہوں، تو یا تو یوں ہی فارغ البال بیٹھے بیٹھے یا ساتھ کام کرنے والوں سے گپ شپ میں لگ کر دل کی پراگندگی کا شکار ہوتا رہوں گا۔
واضح رہے کہ اجیر خاص کا حکم یہ ہے کہ وہ ملازمت کے اوقات میں (فرض، واجب اور سنتِ مؤکدہ نمازوں کی ادائیگی اور طبعی حاجت کے علاوہ) دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتا؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائل کاؤنٹر پر بغیر کسی کوتاہی کے اپنے ذمہ کا کام نمٹانے کے بعد فارغ وقت میں وہیں بیٹھے بیٹھے تلاوتِ قرآن یا کسی مفید کتاب کا مطالعہ کرتا ہو، تو یہ یوں ہی فارغ بیٹھنے یا ساتھیوں سے بے مقصد گفتگو میں وقت ضائع کرنے سے بہتر عمل ہے۔البتہ اگر کاؤنٹر پر کوئی کام باقی ہو، تو ایسی صورت میں مالک کی اجازت کے بغیر تلاوت یا مطالعہ کرنا جائز نہیں۔
منحۃ الخالق علی البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: لم يجز إلا بإذن سيده) قال في النهر وينبغي أن يكون الأجير الخاص كذلك لا يحل أذانه إلا بإذن مستأجره."
(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج: 1، ص: 279، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: و ليس للخاص أن يعمل لغيره) بل و لا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي و إذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة و لايشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، و في فتاوى سمرقند: و قد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. و اتفقوا أنه لايؤدي نفلاً، و عليه الفتوى."
(كتاب الإجارة، ج:6، ص: 70، ط: سعيد)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 425) :الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.
ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل......وإنما لا يشترط عمل الأجير الخاص بالفعل كما ورد في هذه المادة؛ لأنه لما كانت منافع الأجير مدة الإجارة مستحقة للمستأجر وتلك المنافع قد تهيئت والأجرة مقابل المنافع، فالمستأجر إذا قصر في استعمال الأجير ولم يكن للأجير مانع حسي عن العمل كمرض ومطر فللأجير أخذ الأجرة ولو لم يعمل (الزيلعي) ."
(الكتاب الثاني:الإجارة، الباب الثاني في بيان الضوابط العمومية للإجارة، رقم المادة:425، ج:1، ص:458، ط:دار الجيل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101057
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن