
ہمارے گاؤں میں ایک شخص نے دو کمروں پر مشتمل اپنے ایک مکان کو سرکاری ہسپتال کے لیے خاص کیا ،اور سرکار نے وہاں کلاس فور(چوکیدار ،اور خادمین)کی نوکریاں لگائیں،اور ان کی تنخواہیں جاری کیں،لیکن اس وقت سے لے کر اب تک اس میں کوئی ڈاکٹر نہیں،البتہ آج سے تین سال پہلے اس میں دوائیاں وغیرہ مہیا تھیں،لیکن اب دو سال سے اس میں نہ کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی دوائیاں وغیرہ موجود ہیں،اور نہ ہی کلاس فور والے ملازم ڈیوٹی کرنےآتے ہیں،لیکن پھر بھی وہ ملازم ابھی تک حکومت سے اپنی تنخواہ لے رہے ہیں،جب کہ حقیقت میں نہ کوئی ہسپتال ہے اور نہ ہی وہاں کوئی علاج وغیرہ ہوتاہے،صرف حکومتی کاغذات کے اعتبار سے گاؤں میں ہسپتال کا وجود ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیاکلاس فور والے ملازمین کا اس صورتِ حال میں تنخواہ لیناشرعاً جائز ہے؟جب کہ دو سال سے وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہیں دے رہے۔
واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کا ملازم شرعاً اجیر خاص ہوتاہے،اس پر لازم ہے کہ مقررہ اوقات پر حاضر ہو اور جو ذمہ داریاں اس کے سپرد کی گئی ہیں انہیں انجام دے، اگر وہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہ ہو تو اس کے لیے تنخواہ وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ۔ایسی صورت میں حاصل کی گئی تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً کلاس فور کے ملازمین اپنی ڈیوٹی سرانجام نہیں دے رہے اور اس کے باوجود تنخواہ وصول کر رہے ہیں، تو ان کا یہ عمل شرعاً ناجائز ہے، اور اس طرح حاصل کی گئی تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.
(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا..... (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."
(كتاب الإجارة، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج: 6، ص: 69، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101028
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن