بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی سے متعلق سوالات


سوال

ایک عالم صاحب فرما رہے تھے کہ موجودہ وقت میں دوسری شادی حرام ہے، کیوں کہ دوسری شادی سے پہلی بیوی کو تکلیف ہوتی ہے اور ایذاء مسلم حرام ہے اس وجہ سے ذیل میں چند سوال معلوم کیے ہیں۔ اگر ایک شخص کی ایک بیوی موجود ہے، وہ اس کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا ہے، بیوی اس کی جسمانی اور گھریلو ضروریات پوری کر رہی ہے، اور بظاہر اسے دوسری شادی کی کوئی خاص مجبوری یا ضرورت بھی نہیں ہے، لیکن وہ شرعاً دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں.

1. کیا ایسی صورت میں دوسری شادی کرنا شرعاً جائز ہے؟

2. پہلی بیوی کو دوسری شادی کی وجہ سے جو فطری رنج، ناگواری، غیرت یا ذہنی تکلیف ہوتی ہے، کیا اس بنا پر دوسری شادی کو "ایذاءِ مسلم" قرار دیا جا سکتا ہے؟

3. اگر دوسری شادی کے نتیجے میں پہلی بیوی کو جذباتی تکلیف پہنچنے کا غالب گمان ہو، تو کیا یہ تکلیف دوسری شادی کے جواز پر اثر انداز ہوتی ہے؟

4. کیا شریعت نے دوسری شادی کے جواز کو کسی خاص ضرورت (مثلاً اولاد نہ ہونا، بیماری، یا جنسی ضرورت پوری نہ ہونا وغیرہ) کے ساتھ مشروط کیا ہے، یا بلا ایسی ضرورت بھی دوسری شادی جائز ہے؟

5. اگر ایک شخص مالی اور جسمانی طور پر ایک سے زائد بیویوں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے درمیان عدل قائم رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو کیا صرف اسی بنیاد پر دوسری شادی کر سکتا ہے؟

6. اگر کوئی شخص دوسری شادی صرف اس وجہ سے کرنا چاہتا ہو کہ شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، نہ کہ کسی مجبوری، بیماری، اولاد کی کمی یا ازدواجی خرابی کی وجہ سے، تو کیا اس کا یہ عمل شرعاً مباح رہے گا یا خلافِ اولیٰ یا مکروہ شمار ہوگا؟

7. عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ پہلی بیوی کو شوہر کی دوسری شادی سے دکھ، رنج اور تکلیف ہوتی ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان کو تکلیف دینا جائز نہیں، اس لیے دوسری شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اگر دوسری شادی سے پہلی بیوی کو فطری طور پر تکلیف ہو تو کیا اس وجہ سے دوسری شادی ناجائز یا ممنوع ہو جاتی ہے؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔

8. ازواجِ مطہرات خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری ازواج کے بارے میں غیرت اور ناگواری کا اظہار منقول ہے۔ کیا ان روایات سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ دوسری شادی بذاتِ خود بیوی کے لیے ایسی اذیت ہے جس کی وجہ سے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، یا فقہاء نے ان روایات کی کوئی دوسری توجیہ بیان کی ہے؟

9. شادی سے جو آدھا ایمان مکمل ہو جاتا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ ایک صاحب فرما رہے تھے کہ ایک شادی سے آدھا ایمان اور دوسری شادی سے دوسرا آدھا ایمان تو اس طریقے سے کم از کم دو شادیاں کرنی چاہیے تاکہ ایمان مکمل ہو جائے اور دوسرے صاحب فرما رہے تھے کہ آدھا ئی ایمان ہوتا ہے اگر ایک کرے گا تو وہ آدھا ایمان مکمل ہوگا اور اگر دو کرے گا تو  ایمان مزید تقسیم ہو کر چوتھا چوتھا ایمان بن جائے گا، برائے مہربانی اس میں بھی رہنمائی فرمائے کس صاحب کا قول معتبر ہے؟

براہِ کرم مذکورہ سوالات کے جوابات دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ مرحمت فرما دیں تاکہ اس مسئلے کو صحیح شرعی تناظر میں سمجھا جا سکے۔ جزاکم اللہ خیراً 

جواب

شریعتِ مطہرہ میں مرد کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے،  اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ (النساء:3)

ترجمہ: اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔

( بیان القرآن )

پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ دین اسلام  فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور ہر قسم کی افراط و تفریط سے پاک ایک مکمل آسمانی دین ہے،اس کے تمام احکام مصالحِ عباد اور مقاصدِ شریعت پر مبنی ہیں ، یہی وجہ ہےکہ  مرد کو بیک وقت چار تک نکاح کی جواجازت دی گئی ہے،  وہ محض خواہش پر مبنی نہیں، بلکہ   کئی حکمتوں پر مشتمل ہے ، جس میں کثرت اولاد ،بیوہ ،مطلقات  کے نان نفقہ کا انتظام ،یتیموں کی کفالت ، مرد وعورت دونوں کے لیے  عفت اور پاکیزگی  سرفہرست ہیں نیز ان حکمتوں کے باوجود یہ حکم عدل و مساوات کی سخت شرائط کے ساتھ مشروط ہے، اگر مرد بیویوں کے درمیان انصاف نہ کر سکے تو اسے صرف ایک بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ خاندانی نظام میں بگاڑ اور ظلم کا راستہ بند ہو جائے۔

سنن أبي داود میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة ‌وشقه ‌مائل."

(‌‌أول كتاب النكاح، باب في القسم بين النساء، ج:3، ص:469، ط:دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی جانب جھک جائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب فالج زدہ ہوگی۔

مذکورہ مختصر تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب یہ ہیں:

1. ایسی صورت میں بھی دوسری شادی کرنا جائز ہے، اس لیے کہ ایک سے زائد شادیوں کی اجازت مذکورہ شرائط کے ساتھ مشروط نہیں، البتہ ایسی صورت میں تمام بیویوں کے درمیان عدل و انصاف اور برابری سے کام لینا ضروری ہے؛ تاکہ کسی بیوی پر ظلم نہ ہو۔

2. ایسی فطری تکلیف کو ایذاءِ مسلم نہیں کہا جائے گا، جب کہ شوہر کی ایسی کوئی نیت و ارادہ نہ ہو، پھر بیوی کو رنج و غم  سے محفوظ رکھنے کے لیے  شریعت نے شوہر کو حکم دیا  ہے  کہ وہ بیویوں میں برابری کرے؛ تا کہ کسی ایک بیوی کے ساتھ امتیازی سلوک دیکھ کر دوسری بیوی کو تکلیف نہ ہو، پھر بھی اگر تکلیف ہوتی ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہ ہو گی۔

3. اگر دوسری شادی کے نتیجے میں پہلی بیوی کو جذباتی تکلیف پہنچنے کا غالب گمان ہو، تو بھی دوسری شادی جائز ہی ہو گی۔

4. شریعت نے دوسری شادی کی غیر مشروط اجازت دی ہے، مخصوص حالات کے ساتھ معلق نہیں کیا، بس یہ قید لگائی کہ شوہر دونوں بیویوں کے حقوق پورے کر سکتا ہو اور برابری کر سکتا ہو تو دوسری شادی کرنا جائز ہے۔

5. مالی اور جسمانی طور پر دو بیویوں کے حقوق پورے کرنے  اور عدل کرنے کی استطاعت رکھنے  کے لیے  دوسری شادی کرنا جائز ہے۔

6. مباح ہو گا۔

7. مسلمان کو تکلیف پہنچانا ناجائز ہے، لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب کسی غیر شرعی طریقے کو اختیار کرنے کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہو، اگر کسی کو جائز اور مشروع کام کی وجہ سے تکلیف ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، مثال کے طور پر اگر بیوی کو شوہر کے ڈاڑھی رکھنے سے تکلیف ہوتی ہو یا شوہر کے بار بار نماز کے لیے مسجد جانے سے تکلیف ہوتی ہو تو ایسی تکلیف کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ اس کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہو گا۔

تاہم اگر کوئی شخص اس وجہ سے دوسری شادی نہیں کرتا؛ تا کہ پہلی بیوی کو رنج نہ ہو تو اس کو ثواب ملے گا۔

8. متعدد بیویوں کے درمیان باہمی غیرت ایک طبعی اور فطری امر ہے، تاہم مرد کے لیے تعددِ ازدواج کی مشروعیت ایسی متعدد شرعی حکمتوں اور مصالح پر مبنی ہے جنہیں شریعتِ مطہرہ نے ملحوظ رکھا ہے، ان مصالح اور حکمتوں کے پیشِ نظر ایک سے زائد نکاح بدستور جائز ہی رہیں گے۔

9.  مذكوره حديث كے مكمل الفاظ يہ ہيں: جب کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو گویا اس نے اپنے دین کا نصف مکمل کر لیا، لہٰذا اسے چاہیے کہ باقی نصف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔

صاحب مرقاة المفاتيح  فرماتے ہیں کہ نکاح کو "دین کا نصف" قرار دینا حقیقت كے طور پر نہيں، بلکہ اس سے مقصود نکاح کی اہمیت بیان کرنا  ہے۔

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انسان کے دین کو بگاڑنے والی دو بڑی چیزیں عموماً "پیٹ" اور "شرم گاہ" ہیں۔

پیٹ سے مراد کھانے پینے کی خواہشات، حرام کمائی اور لالچ وغیرہ ہیں۔

شرم گاہ سے مراد جنسی خواہشات ہیں، جو اگر بے قابو ہو جائیں تو انسان کو زنا، بدنگاہی اور دیگر گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

نکاح ان دونوں میں سے جنسی خواہش کے فتنے سے بڑی حد تک حفاظت کا ذریعہ بن جاتا ہے، اس لیے كه نكاح سے شیطان کے وسوسوں سے حفاظت ہوتی ہے، جنسی خواہش میں اعتدال پیدا ہوتا ہے، شہوت کے نقصانات اور فتنوں سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے،  نگاہوں کی حفاظت ہوتی ہے، یعنی انسان حرام نظر سے بچتا ہے، شرم گاہ کی حفاظت ہوتی ہے، یعنی زنا اور دیگر حرام افعال سے محفوظ رہنے میں مدد ملتی ہے۔

لہذا حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ نکاح انسان کی عفت، پاکدامنی اور اخلاقی زندگی کے تحفظ کا ذریعہ ہے، چونکہ نکاح بڑے گناہوں سے حفاظت فراہم کرتا ہے، اس لیے اسے مبالغہ کے طور پر "دین کا نصف" قرار دیا گیا ہے، نہ کہ اس معنی میں کہ دین حقیقتاً دو برابر حصوں میں تقسیم ہے۔ پھر باقی تمام دینی ذمہ داریوں میں بھی تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن أنس قال: «قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إذا تزوج العبد» ) أي: المرء ( «فقد استكمل نصف الدين» ) أي: كمل نصف دينه، ويجوز رفعه أي: يكمل نصفه وهو عطف على الشرط وجزاؤه قوله ( «‌فليتق ‌الله ‌في النصف الباقي» ) أي: في بقية أمور دينه، وجعل التزوج نصفا مبالغة للحث عليه. وقال الغزالي: الغالب في إفساد الدين الفرج والبطن - وقد كفى بالتزوج أحدهما، ولأن في التزوج التحصن عن الشيطان، وكسر التوقان، ودفع غوائل الشهوة، وغض البصر، وحفظ الفرج."

(كتاب النكاح ، جلد : 5، صفحه: 2049، طبع: دار الفكر)

تفسیر الرازی میں ہے:

"المسألة السابعة: قوله: مثنى وثلاث ورباع محله النصب على الحال مما طاب، تقديره: فانكحوا الطيبات لكم معدودات هذا العدد، ثنتين ثنتين، وثلاثا ثلاثا، وأربعا أربعا. ۔۔۔ المسألة الأولى: المعنى: فإن خفتم أن لا تعدلوا بين هذه الأعداد كما خفتم ترك العدل فيما فوقها، فاكتفوا بزوجة واحدة أو بالمملوكة"

(سورۃ النساء، ج:9، ص:488 تا 489، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك، والامتناع أولى، ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية."

(كتاب النكاح، الباب الحادي عشر في القسم،ج: 1،ص: 341، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101048

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں