
ہم جاپان میں بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے مختلف نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں، انہی سرگرمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً جمعہ کے دن بچوں سے منبر پر جاپانی زبان میں بیان کروایا جاتا ہے، تاکہ مستقبل میں داعی یا امام بننے کے لئے اس کو ابھی سے ذہنًا تیار کیا جائے۔ بیان کے دوران جب کسی حدیث کا ذکر آتا ہے یا صرف نبی کریم ﷺ کا مبارک نام لیا جاتا ہے تو ہم "صلی اللہ علیہ وسلم" عربی میں لکھنے کے بجائے اس کا جاپانی ترجمہ لکھ دیتے ہیں، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی جاپانی مسلمان یا غیر مسلم جمعہ کے دن مسجد میں موجود ہو تو وہ بھی درود کے معنی سمجھ سکے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا درودِ پاک کا ترجمہ لکھنا جائز ہے، یا لازم ہے کہ “صلی اللہ علیہ وسلم” عربی ہی میں لکھا اور پڑھا جائے؟
صورتِ مسئولہ میں درودِ پاک یعنی "صلی اللہ علیہ وسلم"کا جاپانی ترجمہ لکھنا اور عربی کے بجائے جاپانی زبان میں پڑھنا جائز اور باعثِِ اجرہے۔ تاہم عربی زبان میں درودِ پاک پڑھ کر پھر مقامی زبان میں اس کا ترجمہ کرنا بہتر ہوگا، تاکہ عربی زبان سے انسیت قائم ہوسکے، اور اس کی فضیلت بھی حاصل کی جا سکے۔
نیز مذکورہ سرگرمی کے مقاصد میں سے ایک مقصد چوں کہ جمعہ کے خطیب کی تیاری بھی ہے، تو ابتداء سے ہی عربی زبان کی مشق و انسیت پیدا کروائی جائے، کیوں کہ جمعہ کا خطبہ عربی زبان میں کہنا واجب ہے، مقامی زبان میں جمعہ کا خطبہ دینا شرعاً درست نہیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وعلى هذا الخلاف لو سبح بالفارسية في الصلاة أو دعا أو أثنى على الله تعالى أو تعوذ أو هلل أو تشهد أو صلى على النبي صلى الله عليه وسلم بالفارسية في الصلاة أي يصح عنده".
(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:484، ط:سعید)
عمدۃ الرعایۃ میں ہے:
"لاشك في ان الخطبة بغير العربية خلاف السنة المتوارثة عن النبي صلي الله عليه وسلم والصحابة رضي الله تعالي عنهم، فيكون مكروها تحريما".
(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجمعة، 2/324،ط: دارالکتب العلمیة)
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
"لو كبر المصلي بغير العربية، فذهب أبو حنيفة إلى جوازه مطلقا، عجز عن العربية أم لم يعجز، واحتج في ذلك بقوله تعالى: {وذكر اسم ربه فصلى} ، وقياسا على إسلام الكافر .
وشرط أبو يوسف ومحمد عجز الشخص عن العربية. وعلى هذا الخلاف: الخطبة وأذكار الصلاة، كما لو سبح بالفارسية في الصلاة، أو أثنى على الله تعالى، أو تعوذ، أو هلل، أو تشهد، أو صلى على النبي صلى الله عليه وسلم يصح عنده، وأما أبو يوسف ومحمد فشرطا العجز وذكر ابن عابدين نقلا عن شرح الطحاوي: أنه لو كبر الشخص بالفارسية، أو سمى عند الذبح، أو لبى عند الإحرام بالفارسية أو بأي لسان، سواء أكان يحسن العربية أم لا، جاز بالاتفاق بين الإمام وصاحبيه،وهذا يعني أن الصاحبين رجعا إلى قول الإمام في جواز التكبير والأذكار مطلقا، كما أن أبا حنيفة رجع إلى قولهما في عدم جواز القراءة بالعجمية إلا عند العجز".
(ترجمة، ج:11، ص:170، ط:دارالسلاسل)
فقط وااللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100877
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن