بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دنیا اور دنیوی ضرورتوں کے لیے دعا مانگنا برا نہیں ہے/ رزق میں برکت وغیرہ کے لیے وطائف


سوال

بندہ اللہ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے دعائیں کرتا ہے، خاص طور پر دنیاوی ضرورتوں کے لیے، جیسے: گھر، گاڑی، روزگار وغیرہ، لیکن پھر دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اے نادان! تُو اللہ سے مانگ تو رہا ہے، لیکن صرف دنیا مانگ رہا ہے، یہ سوچ پریشان کر دیتی ہے کہ کیا دنیا مانگنا ٹھیک ہے؟ حالاں کہ میں صرف دنیا نہیں مانگتا، بلکہ آخرت بھی ساتھ مانگتا ہوں، پھر بھی دل میں خلش رہتی ہے اور خود پر شک ہونے لگتا ہے کہ شاید میں غلط کر رہا ہوں، شاید دنیا مانگنا مناسب نہیں، حالاں کہ میں نے علماء سے سیکھا ہے کہ دعا کیسے مانگنی چاہیے، سب کے لیے مانگتا ہوں، اور آخرت کی بھلائی بھی شامل کرتا ہوں، پھر بھی یہ خیال دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ جیسے میں صرف دنیا کے لیے اللہ کو پکار رہا ہوں، اور اس سے دل میں بےیقینی اور الجھن پیدا ہو جاتی ہے، بعض اوقات علماء کی ویڈیوز دیکھ کر بھی احساس ہوتا ہے کہ میں شاید صرف دنیا کے پیچھے لگا ہوا ہوں، اور شک پیدا ہو جاتا ہے کہ جو دعائیں مانگ رہا ہوں وہ قبول ہوں گی بھی یا نہیں؟! اس کیفیت کی وجہ سے بعض اوقات وظائف اور اذکار بھی چھوٹ جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں بندہ کیا کرے؟ کیوں کہ انسان ہے، رزق اور مستقبل کی فکر لگی رہتی ہے، چاہے جتنا بھی توکل کرنے کی کوشش کرے، انسان کا دل چاہتا ہے کہ دنیاوی اسباب اختیار کرے، مگر پھر دل مایوس بھی ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں کاروبار میں مستقل نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے سخت ذہنی دباؤ، افسردگی اور پریشانی میں مبتلا رہا، اس کی شدت اتنی بڑھی کہ اب دل ہی نہیں کرتا کہ دوبارہ کاروبار یا کسی دنیاوی کوشش میں لگوں اور پیسہ کماؤں، کئی دن ہو جاتے ہیں کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگاتا، حالاں کہ عقل کہتی ہے کہ دنیاوی کوشش بھی کرنی ہے، لیکن دل نہیں مانتا، اب اس کیفیت کا کیا حل ہے؟ اور آخر میں عاجزانہ درخواست ہے کہ رزق میں برکت، دنیا و آخرت کی بھلائی، دل کو سکون، اور کوشش کی ہمت کے لیے کوئی آسان اور مسنون وظیفہ یا عمل بھی عطا فرما دیں جو عام انسان آسانی سے کر سکے۔ 

جواب

واضح رہے کہ دنیا اور دنیوی ضرورتوں کے لیےدعاء  مانگنا کوئی عیب اور برائی کی بات نہیں ہے، احادیثِ مبارکہ میں اپنی تمام حاجتیں اور ضرورتیں  اللہ تعالی سے مانگنے کی ترغیب وارد ہوئی ہے، یہاں تک کہ  جوتے  کاتسمہ ( اور اس جیسی  معمولی چیز)   بھی اللہ تعالی سے مانگنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہرشخص کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام حاجتیں  اپنے پروردگار سے مانگے ، یہاں تک کہ اگر اُس کے جوتے کا تسمہ  ٹوٹ جائے  تو اُسے بھی   اپنے پروردگار سے مانگے‘‘۔ اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ   اپنے پروردگار سے مانگنے میں  کسی بھی مرحلہ پر سائل کے لیے کوئی رکاوٹ اور کسی بھی قسم کی کوئی  محرومی نہیں ہے، اللہ تعالی اپنے بندوں پر بہت مہربان ہیں، وہ جو کچھ بھی مانگتے ہیں  اللہ تعالی اُنہیں عطا کرتے ہیں، اس لیے بندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ہرحاجت، خواہ وہ کتنی ہی ادنی سے ادنی کیوں نہ ہو، اللہ تعالی ہی کے سامنے پیش کریں، اُسی سے اپنی ہر مراد مانگیں، اُسی کی اور صرف اُسی کی ذات پر بھروسہ کریں۔

( ماخوذ از:مظاہرِ حق، کتاب الدعوات، جلدِ دوم، ص:۴۶۲، ط: دار الاشاعت ،کراچی) 

تاہم یہ واضح رہے کہ   دنیا  اور دنیوی ضرورتوں کی دعا  مانگتے ہوئے ساتھ میں آخرت اور اخروی امور سے متعلق   بھی دعا  مانگنی چاہیے، اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں    دنیا اور آخرت دونوں   کی بھلائی مانگنے کی تعلیم دی ہے،  لہذا  صورتِ مسئولہ میں سائل کا دنیا اور دنیوی ضرورتوں  کے لیے دعا مانگنا ،جب کہ سائل   ساتھ میں آخرت کی دعا بھی مانگتا ہے، کوئی  عیب اور برائی کی بات نہیں ہے، اس لیے سائل کو اس طرح کی دعائیں مانگنے پر کسی  بھی قسم کی  پریشانی، بےیقینی اور  الجھن کا شکار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالی سے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگتے رہنا چاہیے ۔نیز  کاروبار میں نقصان  ہونے کی وجہ سے وقتی طور پر پریشان اور افسردہ ہونا فطری چیز ہے، تاہم اس کی وجہ سے کم ہمتی اور ناامیدی  سے کام لیتے ہوئے  آئندہ کسی بھی قسم کے  کام کے لیے قدم نہ اٹھانا  مناسب نہیں  ہے، سائل کو  چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے نئے سرے سے  کام کاج کے لیے   کمرِ ہمت باند ھیں  اور درج ذیل  اعمال کا اہتمام کریں:

 پانچ وقت  باجماعت نمازوں  کے اہتما م کے ساتھ    حسبِ توفیق قرآنِ کریم کی تلاوت اور   اللہ تعالی  کا ذکر کرتے رہیے ۔ نیز درج ذیل دعائیں مانگتے رہیے:

۱۔"اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ".

۲۔"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار".

۳۔"وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَام".

"سنن الترمذي"میں ہے:

"عن أنس-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-: ليسأل أحدكم ربّه حاجته كلّها حتّى يسأل شِسْع نعله إذا انقطع".

(سنن الترمذي، أبواب الدعوات، باب(بدون الترجمة)، 5/583، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:

"(عن أنس-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم -  ليسأل أحدكم ربّه حاجته) مفعول ثان (كلّها): تأكيد لها، أي: جميع مقصوداته؛ إشعاراً بالافتقار إلى الاستعانة في كلّ لحظة ولمحة (حتى يسأل) : أي: اللهَ، وفي نسخة صحيحة: حتى يسأل بلا ضمير (شِسْع نعله) : بكسر المعجمة وسكون المهملة، أي: شِراكها (إذا انقطع): قال الطّيبيّ: الشِّسْع أحد سيور النّعل بين الأصبعين، وهذا من باب التتميم؛ لأنّ ما قبله جيء في المهمّات، وما بعده المتمِّمات. (زاد في رواية): حقّ المصنّف أن يقول: وفي رواية، أو يقول: رواه التّرمذيّ وزاد في رواية: (عن ثابت البُنانيّ) : بضم الموحدة (مرسلا): أي: مرفوعاً بحذف الصّحابيّ (حتّى يسأله الملح): وهذا هو القدر الزائد، وأمّا قوله: (وحتّى يسأله): كرّره؛ لأنّه يدلّ على لا منع هناك ولا ردّ للسائل عمّا طلب، لكمال تلطّف المسئول وإقباله على إعطاء المأمول، حتّى لا يلتجئ العبد إلّا إليه، ولا يعتمد إلّا عليه".

(مرقاة المفاتيح، كتاب الدعوات، الفصل الثالث،  ج:4، ص:1535-1536، رقم: 2251،  ط: دار الفكر - بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں