
آپ حضرات کی خدمت میں یہ عرض کرنی تھی کہ آپ کا حالیہ فتویٰ نمبر:144611102746:
سوال: اگر کسی جانور کی دم اندر ہی اندر ٹوٹ گئی ہو جس بنا پر وہ دم اٹھا اور ہلا نہ سکتا ہوجب کہ ظاہری صورت اس کی بالکل ٹھیک ہے ،تو کیا ایسے جانور کی قربانی کرنا درست ہے یا نہیں ،یعنی منفعت کے فوت ہونے کی وجہ سے عدم جواز کا حکم ہوگا یا ظاہری کمال برقرار رہنے کی وجہ سے جواز کا حکم ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ قربان کرنے والا جانور کا کوئی عضو ظاہری اعتبار سے صحیح ہو،لیکن اس عضو کی منفعت بالکل ختم ہوچکی ہو،تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں، اگر خفیہ عیب کی وجہ سے منفعت بالکل ختم نہ ہوچکی ہو،تو اس کی قربانی درست ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اندر سے ٹوٹ ہوئے دم والے جانور کی قربانی جائز نہیں،کیوں کہ اس کی منفعت بالکل ختم ہوچکی ہے، اگر چہ وہ ظاہری اعتبار سے درست نظر آرہی ہے۔
اور پرانا حل کردہ فتویٰ نمبر:144211200649:
سوال: ہمارے گھر میں ایک بیل ہے، جس کی دم مفلوج ہے جس کو ہلا نہیں سکتا، باقی صحیح سالم ہے ، یعنی نہ دم کٹی ہوئی ہے اور نہ کسی قسم کا زخم موجود ہے، کیا اس کی اوپر قربانی جائز ہے یا نہیں ؟
دو مفتی صاحبان سے پوچھا گیا ایک کا کہنا تھا کہ دم زینیت کے لیے ہوتی ہے؛ لہذا زینت برقرار ہے، لہذا قربانی جائز ہے۔
دوسرے مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ دم منفعت کے لیے ہوتی ہے، مثلًا مچھر وغیرہ جھاڑنے کے لیے، اس میں منفعت مفقودہے؛ لہذا اس کی قربانی جائز نہیں ؟
جواب: بصورتِ مسئولہ مفلوج (شل) دم والے بیل کی قربانی جائز ہے، بشرطیکہ دم موجود ہو، کٹی ہوئی نہ ہو؛ کیوں کہ دم کٹی ہونا قربانی کے جانور میں عیب ہے، اور دم موجود ہونا اگرچہ مفلوج ہو، شرعًا عیب شمار نہیں۔
دونو ں صورت مسئلہ کے اعتبار سے ہمیں ایک جیسا لگتے ہیں، جب کہ حکم دونوں کا الگ الگ ہے،آپ حضرات اگر اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرما دیجئے گا ۔
واضح رہے کہ اگر قربانی کرنے والے جانور میں ایسا عیب آجائے،جس سے عیب والے عضو کی منفعت بالکل ختم ہوجائے اور اس سے جو کام لیا جاتا ہے، وہ کام نہ لیا جاسکے،تو اس جانور کی قربانی درست نہیں۔
سوال میں ذکر کردہ پرانا فتٰوی 144211200649 میں دم کٹی ہوئی ہونے کو بنیاد بنا کر جواب دیا گیا،جس کی وجہ سے تسامح ہوا، اور جواز کا فتوٰی دیا گیا ہے، چوں کہ دم ٹوٹے ہوئے ہو، اور بے حس ہونے کی صورت میں بھی دم نہ ہونے کی طرح ہے، لہذا اس کی قربانی بھی جائز نہیں، اس لیے پہلا فتوٰی کالعدم سمجھا جائے اور فتوٰی144611102746 پر عمل کیا جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع۔"
(كتاب الأضحية، الباب الخامس، ج: 5، ص: 299، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100287
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن