
ایک نکاح اس طرح ہوا کہ مجلس میں تین شخص موجود تھے، ایک لڑکی کا والد، دوسرا لڑکے کا والد اور تیسرا نکاح خواں، والدین جانبین سے وکیل ہیں ، ایجاب قبول انہوں نے کیا ہے، لڑکے اور لڑکی کی اجازت شامل ہے، مہر مثل مقرر ہوا ہے، کیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
مجلسِ نکاح میں یہ صرف تین شخص موجود تھے، دولہا دلہن موجود نہیں تھے۔
سوال یہ ہے کہ والدین وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ گواہ بھی بن سکتے ہیں یا نہیں؟ نکاح ہو گیا یا دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر دولہا اور دلہن نکاح کی مجلس میں موجود نہیں تھے، لڑکی کے والد اور لڑکے کے والد لڑکی اور لڑکے کی طرف سے وکیل تھے تو ایسی صورت میں ان کی حیثیت صرف وکیل کی ہوگی، وہ گواہ شمار نہیں ہوں گے، گواہ صرف نکاح خواں شمار ہو گا، گویا یہ نکاح صرف ایک گواہ (یعنی: نکاح خواں) کی موجودگی میں ہوا ہے، اور ایک گواہ کی موجودگی میں نکاح درست نہیں ہوتا، اب اگر لڑکا اور لڑکی ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: ومن أمر رجلاً أن يزوج صغيرته فزوجها عند رجل والأب حاضر صح، وإلا فلا؛ لأن الأب يجعل مباشراً للعقد باتحاد المجلس ليكون الوكيل سفيراً ومعبرًا فبقي المزوج شاهدًا، وإن كان الأب غائبًا لم يجز".
(كتاب النكاح ، 3/97 ، ط : دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معًا) على الأصح."
(كتاب النكاح، ج : 3 ، ص : 21 ، ط : سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101477
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن