
ایک شخص کا دکاندار سے جھگڑا ہو رہا تھا۔ اسی دوران اس نے غصے میں یہ الفاظ کہے: "طلاق، میں یہ چیز خریدوں گا"
وضاحت: اس شخص کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ صرف اپنی بات پر زور دینا مقصود تھا، اس نے اپنی بیوی کا کوئی ذکر نہیں کیا اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ "اگر میں نے خریدا تو میری بیوی کو طلاق" بعد میں اس نے وہ چیز نہیں خریدی اب سوال یہ ہے کہ: کیا ان الفاظ کی وجہ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ براہ کرم قرآن و سنت روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں دکاندار سے جھگڑے کے دوران مذکورہ الفاظ (طلاق، میں یہ چیز نہیں خریدوں گا) کہتے وقت نہ صراحتاً بیوی کی طرف نسبت ہے، نہ اشارۃً، لہٰذا اس سے مذکورہ شخص کی نیت طلاق بھی نہ تھی تو اس سے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔ دونوں بدستور میاں بیوی ہیں، تاہم آئندہ اس جیسے الفاظ کے بولنے سے اجتناب کیاجائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
" أن الطلاق محله المرأة لأنها محل النكاح ... فلا يقع الطلاق إلا بالإضافة إلى ذاتها أو إلى جزء شائع منها."
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:258،دار الفكر بيروت)
وفیه أیضاً:
"لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها."
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:250، ط:دارالفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100307
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن