بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان دار کے پاس گاہکوں کے عرصہ دراز سے چھوڑے ہوئے سامان کا شرعی حکم


سوال

 ایک شخص کی سمرسیبل موٹر وائنڈنگ کی پینتیس سال پرانی دوکان ہے، اُس کے پاس کچھ موٹر پرانی اور کچھ نئی پڑی ہوئی ہیں جن کے مالک لینے نہیں آتے ہیں، کچھ موٹروں کے مالک وفات پا گئے ہیں ان کے اہل وعیال نہیں آتےہیں، دکان دار نے اخبارات میں بھی اشتہارات دیے ہیں کہ آکر اپنی موٹروں کو لے جائیں، لیکن اب تک کچھ خبر نہیں ،یہ موٹریں دکان دار کے ذاتی گھر میں پڑی ہوئی ہیں، نئے گھر کھنڈرات بن چکے ہیں، دکان دار اب مزید انتظار نہیں کرسکتا اور وہ ان گھروں میں رہائش اختیار کرنا چاہتا ہے تو کیا مذکورہ موٹروں کو فروخت کرسکتا ہے؟ اور اِن پیسوں سے گھر کی مرمت تعمیر وغیرہ کرسکتا ہے؟ یا اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ موٹروں کے مالکان یا اُن کے ورثاء سے انفرادی طور پر رابطہ کرنا ممکن ہے، اُن کا پتہ اور رابطہ نمبر موجود ہے، تو اُن سے براہِ راست رابطہ کر کے موٹریں اُن کے حوالہ کردی جائیں، اُن کی اجازت و رضامندی کے بغیر موٹروں کو فروخت کرنا درست نہیں ہے،نیز آج کے اِس جدید دور میں رابطہ ناممکن بھی نہیں ہے۔

البتہ اگر کسی موٹر کے مالک سے کسی صورت رابطہ نہ ہوپائے،یا مالک تک براہِ راست اطلاع پہنچانے اور تشہیر و اعلانات کرانے کے باوجود سامان کا مالک اپنا مال لینے نہ آئے،اور  اتنی مدت گزرچکی ہو کہ  یقین ہوجائے اب اِس موٹر کا مالک نہیں آئے گا، تو ذکر کردہ اعذار کے پیشِ نظر وہ موٹریں کسی فقیر و غریب کو بطورِ صدقہ کے دے دی جائیں،یا مناسب قیمت میں فروخت کرکے وہ رقم اپنے پاس محفوظ کرلے یا پھر صدقہ کردی جائے، اور اگر دکان دار خود فقیر و مستحق  زکات ہو تو موٹر یا اُس کی رقم اپنے استعمال میں بھی لاسکتا ہے، لیکن غنی اور صاحبِ حیثیت ہونے کی صورت میں ذاتی طور پر استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

بہر دو صورت کسی وقت بالفرض اگر موٹر کا  مالک لوٹ آئے اور موٹر دکان دار کے زیر استعمال ہو تو وہ اُس سے لینے کا حق دار ہوگا، اگر اُس نے آگے صدقہ کردی یا بیچ کر رقم صدقہ کردی ہو  اُس مالک کو اختیار ہوگا یا تو دکان دار سےموٹر کی مناسب قیمت وصول کرلے یا اُس صدقہ کو اپنی طرف سے نافذ کر کے ثواب حاصل کرلے،بہر صورت مالک کی اجازت کےبغیر موٹروں ذاتی استعمال میں لانا یا فروخت کرنا اور اُس کے پیسے اپنے استعمال میں لانادرست نہیں ہے۔

احسن الفتاوی میں ہے:

"گھڑی ساز کو گھڑی دےکر واپس نہیں آیا:

سوال:زید گھڑیوں کی مرمت کا کام کرتا ہے لوگ مرمت کے لیے گھڑیاں اسے دے جاتے ہیں ان میں سے کچھ گھڑیاں کئی سال سے اس کے پاس پڑی ہیں جن کا کوئی مالک اب تک نہیں آیا اور نہ آئندہ آنے کی امید ہے،گھڑی ساز کو ان مالکان کے متعلق کچھ معلوم نہیں کہ کون لوگ ہیں؟کہاں رہتے ہیں؟مزید رکھے رہنے سے گھڑیاں زنگ آلود ہوکر بے کار ہوجائیں گی ان کا کیا کیا جائے؟بینوا توجروا

الجواب باسم ملھم الصواب

گھڑی ساز اگر مالکان کی آمد سے مایوس ہوچکا ہے تو ان گھڑیوں کا صدقہ کردے،صدقہ کرنے کے بعد اگر کسی گھڑی کا مالک آجائے تو اسے اختیار ہوگا کی اس تصدق موقوف کا نافذکردے یا لقطہ اٹھانے والے سے اس کا ضمان وصول کرے یا فقیر سے گھڑی لےلے اگر گھڑی اس سے ضائع ہوچکی ہو تو اس سے ضمان وصول کرے۔

اگر لقطہ اٹھانے والے نے ضمان ادا کیا تو صدقہ کا ثواب اس کو ملے گا۔

گھڑی ساز کے لیے اس گھڑی کا فروخت کرنا جائز نہیں۔"

(کتاب اللقطہ،ج۶،ص۳۸۹-۳۹۰،ط:یچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"رفع شيء ضائع للحفظ على غير لا للتمليك) وهذا يعم ما علم مالكه كالواقع من السكران، وفيه أنه أمانة لا لقطة لأنه لا يعرف بل يدفع لمالكه.

(قوله: وفيه أنه أمانة لا لقطة إلخ) فيه نظر، فإن اللقطة أيضا أمانة، وعدم وجوب تعريفه لا يخرجه عن كونه لقطة كما قدمنا؛ لأنه وإن علم مالكه فهو مال ضائع: أي لا حافظ له نظير ما مر في المال الذي يوجد مع اللقيط. وفي القاموس: ضاع الشيء صار مهملا، ولهذا ذكر في النهر أن هذا الفرع يدل على ما استفيد من هذا التعريف من أن عدم معرفة المالك ليس شرطا في مفهومها."

(کتاب اللقطة، ج:۴، ص:۲۷۶، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه)

(قوله: فينتفع الرافع) أي من رفعها من الأرض: أي التقطها وأتى بالفاء، فدل على أنه إنما ينتفع بها بعد الإشهاد والتعريف إلى أن غلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها، والمراد جواز الانتفاع بها والتصدق، وله إمساكها لصاحبها. وفي الخلاصة له بيعها أيضا وإمساك ثمنها ثم إذا جاء ربها ليس له نقض البيع لو بأمر القاضي، وإلا فلو قائمة له إبطاله؛ وإن هلكت، فإن شاء ضمن البائع وعند ذلك ينفذ بيعه في ظاهر الرواية."

(کتاب اللقطة، ج: ۴، ص: ۲۷۹، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين."

(کتاب اللقطة، ج:۳، ص:۲۹۰، ط:دار الفکر)

وفيه ايضا:

"إن كان الملتقط محتاجًا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيًّا لايصرفها إلى نفسه بل يتصدّق على أجنبيّ أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء، كذا في الكافي."

(کتاب اللقطة، ج:۳، ص:۲۹۱، ط:دار الفکر)

النہر الفائق میں ہے:

"وسيأتي أن له الانتفاع بها،وفي (الخلاصة) ‌له ‌بيعها أيضا إن لم تكن دراهم ودنانير."

(كتاب اللقطة، ج:٣، ص:٣٧٩، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں