
میں ایک بیوہ عورت ہوں ، والدین اور شوہر کا انتقال ہوچکا ہے، سگی اولاد کوئی نہیں ہے، 2 سوتیلے بیٹے اور 2 سوتیلی بیٹیاں ہیں،3 سگے بھائی اور 3 بہنیں ہیں۔
میرا ذاتی فلیٹ ہے، میں اس میں اکیلی رہتی ہوں، ایک عدد ذاتی چھوٹی سی دکان ہے، جس کا کرایہ 11000 آتاہے جس سے میں گھر کا خرچہ چلاتی ہوں۔اس کے ساتھ سونے کے چند زیورات ہیں جو میں نے حج کی نیت سے رکھے ہیں۔میں نے حج فرض نہیں کیا اب کرنا چاہتی ہوں ۔
میرے بہن بھائی سب مالدار ہی، میں اپنا مکان اور دکان مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کرنا چاہتی ہوں تاکہ میرے بعد مجھے ثواب ملتا رہے۔
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اپنی دکان وقف کر دوں اور اس کا کرایہ میری زندگی میں مجھے ملتا رہے؟ اس طرح کے وقف کا کیا طریقہ ہو گا؟
میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ خدا نخواستہ اگر مجھے کوئی ضرورت پیش آ جائے تو میں مکان کو بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر سکوں، تو ایسی صورت میں مکان کیسے وقف کروں کہ مجھے وقف کرنے کا ثواب بھی ملتا رہے؟
نیز میں اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیے بھی مال دینا چاہتی ہوں۔
اگر ميرےپاس کسی محرم کو ساتھ حج پر لے جانے کے اخراجات نہ ہوں، اور کوئی محرم اپنے خرچہ پر میرے ساتھ حج کے لیے تیار نہ ہو تو اس صورت میں میرے لیے حج کے متعلق کیا حکم ہے؟
سوتیلے بچوں کو میراث میں حصہ ملتاہے یا نہیں ؟
1۔صورتِ مسئولہ میں سائلہ اپنی دکان کو اس طرح کے الفاظ کے ساتھ وقف کرے کہ "میں اپنی اس دکان کو اس شرط پروقف کر تی ہوں کہ اپنی زندگی تک میں اس کا کرایہ وصول کرتی رہوں گی اور میرے مرنے کے بعد یہ دکان فلاں مسجد / مدرسہ کے لیے وقف ہے۔"تو اس طرح وقف کرنا درست ہوگا، اور سائلہ کا اپنی زندگی میں اس دکان کا کرایہ لینا بھی جائز ہوگا اوراس کے انتقال کے بعد یہ دکان جس مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کی جائے گی اسی کے لیے مختص ہوگی۔ اور اس کے لیے زبانی طور پر وقف کرنا کافی ہوگا،البتہ تحریری طور پر لکھ لینا بہتر ہے۔
2۔واضح رہے کہ وقف جب درست اور صحیح ہوجائے تو موقوفہ چیز قیامت تک کے لیے واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، اس کے بعد اس موقوفہ زمين کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا یا اس کو وراثت میں تقسیم کرنا جائز نہیں ہوتا،لہذا مکان کو اس شرط کے ساتھ وقف نہیں کیا جا سکتا کہ ضرورت کے وقت بیچنے کا اختیار بھی باقی رہے؛ لہذا سائلہ کو چاہیے کہ وہ اس مکان کے متعلق وصیت کر دے کہ میرے مرنے کے بعد اس مکان کا ایک تہائی فلاں مسجد/مدرسہ کے لیے وقف ہے ، ایسی صورت میں سائلہ کے بعد اس مکان کا ایک تہائی مقررہ مسجد /مدرسہ کے لیے وقف ہو جائے گا اور مکان کا باقی حصہ سائلہ کے ورثاء میں تقسیم ہو گا۔
3۔سائلہ اپنا کچھ مال کسی بھی نیک کام میں خرچ کر کے اس کا ثواب اپنے والدین کو ایصال کر دے، اس طور پر کہے کہ اے اللہ اس عمل کاثواب میرے والدین کو پہنچادے۔
4۔سائلہ كااگرکوئی محرم نہیں ہے یا محرم ہے مگر محرم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتی تو اس کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ وہ انتظار کرتی رہے، تاآں کہ محرم کا بندوبست ہوجائے یا محرم کے اخراجات کا بندوبست ہوجائے۔ اگر زندگی بھر محرم کا بندوبست نہ ہوسکے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مرنے سے قبل حج بدل کی وصیت کرجائے، تاکہ لواحقین حج بدل کرسکیں۔
5۔سوتیلی اولاد کو میراث میں حصہ نہیں ملتا۔
صحيح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة: إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له."
( كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته، ج:5، ص:73، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
مجمع الزوائد میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سبعة يجري للعبد أجرهن من بعد موته وهو في قبره: من علم علما، أو كرى نهرا، أو حفر بئرا، أو غرس نخلا، أو بنى مسجدا، أو ورث مصحفا، أو ترك ولدا يستغفر له بعد موته."
(کتاب العلم، باب فيمن سن خيرا أو غيره أو دعا إلى هدى، ج:1، ص:167، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى."
(کتاب الوقف، مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ، ج:4، ص:384، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية."
(کتا ب الوقف، الباب الأول في تعريف الوقف وركنه، ج:2، ص:350، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101967
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن