
ایک شخص چائے کی پتی کا کاروبار کر رہا ہے ایک خاص نام کے ساتھ، اس نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص ایک پاؤ پتی جو کہ پانچ سو روپے کی ہے خریدے گا ہم اس کا نام قر عہ اندازی میں شامل کریں گے، پھر جب قرعہ اندازی ہوگی تو جس شخص کا نام نکل آئے اس کو عمرہ ٹکٹ یا 20 ہزار روپے یا موبائل انعام میں دیا جائے گا، کیا اس طریقے سے خرید و فروخت کرنا صحیح ہے؟
اگر کوئی دکان دار یہ اعلان کرتا ہے کہ جو لوگ میری دکان سے خریداری کریں گے تو ان کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا اور جن لوگوں کے نام قرعہ اندازی میں نکلیں گے انہیں انعام دیا جائے گا تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ ایسا کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے اور ان شرائط کی موجودگی میں قرعہ اندازی میں جن خریداروں کے نام نکلیں ان کے لیے انعام وصول کرنا بھی جائز ہوگا، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) دكان دار سامان کی قیمت اتنی ہی مقرر کرے جو کہ مارکیٹ میں ایسے سامان کی رائج ہو،یعنی اس سامان کی عام قیمت میں قرعہ اندازی میں شریک کرنے کے لئے اضافہ نہ کیا ہو۔
(2) دكان دار اپنی مصنوعات کا معیار بھی کم نہ کرے،تا کہ انعامی اسکیم کا لالچ دے کر لوگوں کو غیر معیاری اشیاء خریدنے کی ترغیب نہ دے۔
(3) دكان دار اس انعامی اسکیم کو اپنی ناقص مصنوعات کے نکالنے کا ذریعہ نہ بنائے، یعنی انعام کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی ناقص مصنوعات خریدنے کی طرف راغب نہ کرے۔
چنانچہ اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تو دكان دار کا قرعہ اندازی کے ذریعہ گاہک کو انعام دینا دکان دار کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور گاہک کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو اور دکان دار لوگوں کو اس دکان سے محض انعام کی امید پر مارکیٹ ریٹ مہنگی، غیر معیاری یا ناقص مصنوعات خریدنے کی لالچ دے تو یہ معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا اور اور خریدار کے لیے اس طرح کی خریداری کرنا اور قرعہ اندازی میں نام نکلنے کی صورت میں دکان دار سے انعام وصول کرنا بھی ناجائز ہوگا۔
قرآن کریم میں باری تعالٰی کا ارشاد ہے:
"يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا".[البقرة:219]
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار. قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة."
(سورۃ البقرۃ، آیة:219 ، باب تحریم المیسر، ج:2،ص:11 ،ط:دار احیاء التراث العربی بیروت)
قرآن کریم میں ایک اور مقام پر ارشادِ باری ہے:
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ." [المائدة: 90]
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وقال قوم من أهل العلم: القمار كله من الميسر وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه وهو السهام التي يجيلونها فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم فربما أخفق بعضهم حتى لايخطئ بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا علقت على الأخطار ... ولأن معنى إيسار الجزور أن يقول من خرج سهمه استحق من الجزور كذا فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقاً على الحظر."
(سورۃ المائدۃ، آیة:90 ، باب تحریم الخمر، ج:4،ص127،ط:دار احیاء التراث العربی بیروت)
مصنف ابن ابی شیبہ ہے:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر."
(کتاب البیوع و الأقضیة، البیض الذي یقامر فیه، ج:4،ص: 483 ،مکتبة الرشد الریاض)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(کتاب الحظر و الاباحة، فصل فی البیع، ج:6،ص403،ط:سعید )
مبسوط السرخسی میں ہے:
" لا بأس باستعمال القرعة في القسمة فقد «استعمل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ذلك في قسمة الغنيمة مع نهيه صلوات الله عليه عن القمار» فدل أن استعماله ليس من القمار."
(کتاب القسمة، ج:4، ص:15، ط:دار المعرفة)
وفیه ایضا:
" فاستعمال القرعة في مثل هذا الموضع جائز عند العلماء أجمع - رحمهم الله،وبهذا الحديث قلنا: إذا تزوج أربع نسوة فله أن يقرع بينهن لإبدائه بالقسم؛ لأن له أن يبدأ بمن شاء منهن فيقرع بينهن تطييبا لقلوبهن ونفيا لتهمة الميل عن نفسه وإنما أورد الحديث للحكم المذكور بعده أنه لا بأس للقسام أن يستعجل القرعة في القسمة بين الشركاء قاسم القاضي وغيره في ذلك سواء وهو استحسان وفي القياس هذا لا يستقيم؛ لأنه في معنى القمار؛ فإنه تعليق الاستحقاق بخروج القرعة والقمار حرام؛ ولهذا لم يجوز علماؤنا استعمال القرعة في دعوى النسب ودعوى الملك وتعيين العتق، ثم هذا في معنى الاستقسام بالأزلام الذي كان بعبادة أهل الجاهلية وقد حرم الله تعالى ذلك ونص على ذلك أنه رجس وفسق ولكنا تركنا بالسنة والتعامل الظاهر فيه من لدن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى يومنا هذا من غير نكير منكر، ثم هذا ليس في معنى القمار ففي القمار أصل الاستحقاق يتعلق بما يستعمل فيه وفي هذاالموضع أصل الاستحقاق بكل واحد منهم لا يتعلق بخروج القرعة، ثم القاسم لو قال: عدلت أنا في القسمة فخذ أنت هذا الجانب وأنت هذا الجانب كان مستقيما إلا أنه ربما يتهم في ذلك فيستعمل القرعة لتطبيب قلوب الشركاء ونفي تهمة الميل عن نفسه، وذلك جائز."
(کتاب القسمة، ج:7، ص:15، ط:دار المعرفة)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني" میں ہے:
"ذكر في «الأجناس» : القرعة ثلاث: الأولى لإثبات حق وإبطال حق آخر وإنها باطلة، كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه، ثم تعين بالقرعة، والأخرى لطيبة النفس، وإنها جائزة كما يقرع بين النساء ليسافر بها، والثالث لإثبات حق واحد وفي مقابلة مسألة ليقر بها كل حق كالقسمة وهو جائز والله أعلم."
(کتاب القسمة، الفصل السادس، ج:7، ص:356، ط:دارالکتب العلمیة)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"هذا ليس في معنى القمار ففي القمار أصل الاستحقاق يتعلق بما يستعمل فيه وفي هذاالموضع أصل الاستحقاق بكل واحد منهم لا يتعلق بخروج القرعة، ثم القاسم لو قال: عدلت أنا في القسمة فخذ أنت هذا الجانب وأنت هذا الجانب كان مستقيما إلا أنه ربما يتهم في ذلك فيستعمل القرعة لتطبيب قلوب الشركاء ونفي تهمة الميل عن نفسه، وذلك جائز."
(کتاب القسمة، ج:15، ص:7، ط:دار المعرفة)
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع میں ہے:
" لقوله عليه الصلاة والسلام: «المباح لمن سبق إليه» وإن اشتبه عليه حالهم؛ استعمل القرعة، فقدم من خرجت قرعته."
(فصل فی بیان آداب القضاء، ج:7، ص:13، ط:دارالکتب العلمیة)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"الجائزة: العطية إذا كانت على سبيل الإكرام يقال: أجازه أي: أعطاه جائزة. والجمع جوائز. وقريب منها التحفة فهي ما أتحفته غيرك من البر. قال صاحب اللسان:" وأصلها أن أميرا واقف عدوا وبينهما نهر فقال:من جاز هذا النهر فله كذا، فكلما جاز منهم واحد أخذ جائزة"
(حروف الجیم، ج:15، ص:76، ط:دارالسلاسل الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101204
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن