بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان کے سامنے راستے پر سامان رکھ کر کاروبار کرنے کا حکم


سوال

ہم جس مارکیٹ میں کام کرتے وہاں پر لوگ سب دکانوں کے آگے پ سامان رکھ کر بیچتے ہیں جس سے لوگوں کا راستہ بند ہوتاہے ،ہماری دکان چونکہ آخر میں ہے تو میرا بھائی کہہ رہاہے فٹ پاتھ لوگوں کے گزرنے کے لیے ہوتاہے تو جب آگے سے بند ہے تو ہمارے کھلا رہنے سے ویسے بھی لوگوں کو فائدہ نہیں ہوسکتا۔

جواب

دکاندار راستہ کا مالک نہیں ہوتا،راستہ عام لوگوں کے گزرنے کے لیے بنایاجاتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی دکان آخر میں ہونے کی وجہ سےاس کے دکان کے سامنے کی جگہ عام لوگوں کی گزرگاہ نہیں ہے،جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی،نیز کوئی قانونی  پابندی نہ ہو،تو سائل اپنی دکان کے سامنے کی جگہ کاروبارکے لیے استعمال میں لے سکتا ہے ، ورنہ نہیں۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(1) الإحداث - إن إحداث شيء في الطريق العام يضيق الطريق ويضر بالمارة غير جائز، انظر المادة (19) أما إذا كانت لا تضيق الطريق بسبب اتساعها فالإحداث جائز ما لم يمنع (الطوري) ، والحكم في الجلوس على الطريق العام للبيع والشراء هو على هذا الوجه فإذا كان مضرا فهو غير جائز وإذا كان غير مضر فجائز ومع ذلك إذا كان غير مضر ومنع فالإحداث غير جائز أيضا وبما أنه قد منع الإحداث في المادة (27 9) وفي هذه المادة فلا يجوز الإحداث ولو كان غير مضر."

(الکتاب العاشر الشرکات،ج3،ص231،ط:دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں