
میں نے ایک دکان ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ماہانہ کرائے پر لی ہوئی تھی، پھر میں نے وہ دکان مالک سے ساڑھے پانچ کروڑ کی خرید لی، اور پیسوں کی ادائیگی تین مہینوں میں ادا کرنی طے ہوئی، میں نے ڈھائی کروڑ روپے ادا کر دیے ہیں، اب دکان کا مالک کہتا ہے کہ جب تک مکمل قیمت ادا نہیں کروگےتب تک کرایہ دیتے رہوگے، جب کہ سودے میں یہ بات طے نہیں ہوئی تھی، توکیابیچنے والے کا دکان کے کرائے کا مطالبہ کرنا درست ہے؟
صورت مسئولہ میں جب سائل نے تین مہینوں کی ادائیگی کی شرط پر دکان خرید ی اور ڈھائی کروڑ روپے رقم ادا کر دی ہے تو دکان خریدنے کے بعد سائل اس دکان کا مالک بن گیا تھا، لہذا بیچنے والے کا سائل سے دکان کے کرائے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، سائل کے ذمہ صرف بقیہ رقم ادا کرنا لازم ہے۔دکان کے مالک کی جانب سے مکمل قیمت کی ادائیگی تک کرایہ کی رقم کا مطالبہ کرنا شرعا صریح سود میں داخل ہے؛ اس لیے کہ سائل کے ذمہ بقایارقم قرض ہے اور قرض کے عوض نفع حاصل کرنا سود ہےجو کہ حرام اور ناجائز ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما حكم البيع...فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال."
(کتاب البیوع، فصل في حكم البيع، ج: 5، ص: 233، ط: دار الكتب العلمية)
موسوعۃ القواعد الفقہیہ میں ہے:
"لا يجوز أن يجتمع العوضان لشخص واحد...فمن استحق الأصل لا يجوز له أخذ العوض، ومن استحق العوض لا يجوز له أخذ المعوض عنه، ومن أخذ الثمن لا يجوز له أخذ السلعة أيضا؛ لأن هذا من أكل المال بالباطل....لا يجوز أن يكون للبائع الثمن والسلعة معا، ولا للمشتري كما لا يجوز للمؤجر أن يأخذ الأجرة والمنفعة معا."
(حرف اللام، ج:8، ص: 982، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت)
البحرالرائق میں ہے:
"لو باع المؤجر المستأجر من المستأجر فاسدا تنفسخ الإجارة كما إذا باعه صحيحا اهـ."
(کتاب البیع، باب البیع الفاسد، فصل في أحكام البيع الفاسد، ج: 6، ص: 102، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام."
(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج: 5، ص: 166، ط: دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100703
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن