بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان ہبہ کرکےغلط بیانی سے واپس لینا


سوال

مجھےمیرےچھوٹےبھائیوں نےتحفہ میں دکان دی تھی جومیرےنام کردی تھی اورمجھےقبضہ دےکرتمام اختیارات دیےتھےاوردکان میرےحوالہ کردی تھی، بارہ سال اس دکان کومیں نےچلایا،اس دکان کاکرایہ میں لیتاتھا،اس  کانفع نقصان میراہی تھا،دکان پہ میں خودبیٹھتاتھا،مقصدیہ ہے کہ مجھےگفٹ کرنےکےبعدسارےاختیارات مجھےدےدیےتھے،مگر2022میں غلط بیانی کرکےمجھ سےوہ دکان لےکراس پرقبضہ کرلیا،میں اپنی ساری جائیدادتقسیم کرچکاہوں ،اب مجھےیہ دکان اپنےبیٹوں کودینی ہے،اس دکان کےمتعلق میری رہنمائی فرمائیے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ دکان   سائل کےچھوٹے بھائیوں نے مالکانہ قبضہ واختیار کےساتھ  سائل کو دیدی  تھی اورمذکورہ دکان  میں ان کے علاوہ کسی  اورکاحصہ نہیں تھاتو یہ دکان چھوٹے بھائیوں  کی ملکیت سے نکل کرسائل کی  ملکیت میں آگئی تھی ، چوں کہ بھائی  ذی رحم محرم ہے اور ذی رحم محرم کو ہبہ کرنے کےبعد شرعاً رجوع نہیں ہوسکتا، چھوٹے بھائی سائل سے یہ  دکان  واپس نہیں لے سکتے، اور یہ دکان  بدستور  سائل  کی ملکیت شمار ہوگی ۔

لہذاسائل کےبھائیوں نےسائل سےجودکان سائل  کوہبہ کرکےقبضہ دینےکےبعدغلط بیانی سے واپس لی ہےتوایساکرناشرعادرست نہیں تھا،سائل کےبھائیوں کےذمہ  سائل کوہبہ کی گئی دکان واپس کرناشرعالازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل...........(قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت."

(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 590، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالآباء والأمهات، وإن علوا والأولاد، وإن سفلوا."

 

(کتاب الھبة، الباب الخامس في الرجوع في الھبة، ج:4، ص:387، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144612101057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں