
ہماری ایک دکان ہے، ہم دو بھائی چلاتے ہیں، اب جب نماز کا وقت آتا ہے ایک بھائی نماز کے لیے جاتا ہے، جب وہ واپس آتا ہے تو دوسرا بھائی جاتا ہے، جب کہ دوسرے بھائی سے جماعت کی نماز فوت ہو جاتی ہے اور اگر دونوں بھائی ایک ساتھ جماعت کی نماز کے لیے چلے جائیں تو کوئی تیسرا نائب نہیں ہے جو دکان کا خیال رکھ سکے تو سوال یہ ہے کہ:
1. دوسرے بھائی کے لیے ترکِ جماعت کا کیا حکم ہے؟
2. نماز کے علاوہ اکثر دن ننگے سر رہنے کا کیا حکم ہے؟
3. قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ مستحب فرض یا سنت ہے؟ بالخصوص ایک عالم دین کے لیے۔
1. نماز باجماعت ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ، واجب کے قریب ہے، احادیثِ مبارکہ میں ترکِ جماعت پر سخت وعیدیں آئی ہیں، بلاعذر جماعت ترک کرنا گناہ ہے، ہر مسلمان مرد پر ضروری ہے کہ وہ مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کرے، دکان کھلا رکھنا ایسا عذر نہیں کہ اس کی وجہ سے مستقل جماعت کو ترک کردیا جائے، لہٰذا بصورتِ مسئولہ حتی الامکان کوشش کریں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں، نمازوں کے اوقات میں کوئی متبادل انتظام کریں، تاکہ مستقل جماعت چھوڑنے کا گناہ نہ ہو، کوئی انتظام نہ ہو سکے تو دکان بند کر کے جماعت کی نماز میں شرکت کریں۔
2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمومی احوال میں عمامہ یا ٹوپی کے ذریعہ سر مبارک کو ڈھانپا کرتے تھے؛ اس لیے سر پر عمامہ یا ٹوپی پہنناسننِ زوائد میں سے ہے جس کا درجہ مستحب کا ہے۔ اور سر کاڈھانپنالباس کا حصہ ہے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان اور صلحائے امت کایہی معمول تھا۔کبھی کبھار ننگے سرہوجاناگناہ نہیں ، البتہ مستقل طور پرننگے سررہنا شرعاً ناپسندیدہ اور خلافِ ادب ہے، اور ننگے سر رہنے کو معمول اور فیشن بنالینااسلامی تہذیب کے بالکل خلاف ہے،اگر کوئی غیروں کی مشابہت میں ننگے سررہتاہے تووہ گناہ گار ہوگا۔
3. قرآن مجید تجوید کے ساتھ پڑھنا ہر شخص پر واجب ہے، یعنی: اس قدر تجوید سیکھنا واجب کے درجہ میں ہے جس کی بنا پر پڑھنے والا حروف کی ادائیگی صحیح طور پر کرے، ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف نہ پڑھ لے، کسی حرف کا اضافہ نہ کر لے، مد اور غنہ وغیرہ کا لحاظ رکھے، اگر تجوید میں غلطی کرے گا تو گناہ گار ہو گا، اس سے زیادہ قرآن کے اختلافِ قراءات کو سیکھنا اور اس کے ادغامات و اوقاف کو سیکھنا ہر شخص پر واجب نہیں ہے۔
بہرحال! عالمِ دین کو قرآن بہتر تجوید کے ساتھ پڑھنے کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔
سنن النسائي میں ہے:
"قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من ثلاثة في قرية و لا بدو لاتقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليك بالجماعة فإنما يأكل الذئب القاصية» قال السائب يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة."
(السنن الكبرى للنسائي، كتاب الصلوة، التشديد في ترك الجماعة،رقم الحديث: 922)
ترجمہ: ’’ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ جس وقت کسی بستی یا جنگل میں تین افراد ہوں اور وہ نماز کی جماعت نہ کریں تو سمجھ لو کہ ان لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے اور تم لوگ اپنے ذمہ جماعت سے نماز لازم کرلو ، کیوں کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو کہ اپنے ریوڑ سے علیحدہ ہوگئی ہو۔ حضرت سائب نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز باجماعت ہے۔‘‘
الدر المختار ميں ہے:
"(و الجماعة سنة مؤكدة للرجال)."
(كتاب الصلوة، باب الإمامة،552/1، سعيد)
زاد المعادفی ہدی خیر العباد میں ہے:
"وكان يلبسها ويلبس تحتها القلنسوة. وكان يلبس القلنسوة بغير عمامة، ويلبس العمامة بغير قلنسوة..."
(فصل فی ملابسه صلی اللہ علیه وسلم ،ج : 1 ، ص : 130 ، ط : مؤسسة الرسالة)
مفتی رشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
"سر برہنہ ہونااحرام میں ثابت ہے ،سوائے احرام کے بھی احیاناً ہوگئے ہیں ،نہ کہ دائماً چلتے پھرتے تھے۔"
(کتاب جواز و حرمت کے مسائل ،ص:590، طبع : عالمی مجلس تحفظ اسلام)
امدادالفتاویٰ میں ہے :
تحقیق وجوب علمِ تجوید :
"اس علم کے تین شعبے ہیں تصحیح حروف بقدر امکان و رعایت وقوف بایں معنی کہ جہاں وقف کرنے سے معنی میں فساد و اختلال ہو وہاں وقف نہ کرے، اور اضطرار میں عفو ہے لیکن ایک دو کلمہ کا اعادہ کر لینا احوط ہے یہ دونوں امر تو واجب ہیں علی التعین، اور جس کو صحیح کرنے پر بھی حصول سے یاس ہو جاوے وہ معذور ہے۔
اور ایک شعبہ اختلاف قرات ہے یہ مجموع امت پر واجب علی الکفایہ ہے اگر بعض جاننے والے موجود ہوں یا بعض ایک قرات کے حافظ ہوں، بعض دوسری قرات کے تو یہ واجب سب کے ذمے سے ساقط ہو جاتا ہے۔
ایک شعبہ ادغام و تفخیم و اظہار وغیرہا کی رعایت کاہے یہ مستحب ہے ۔"
(کتاب الصلوۃ،باب القرآۃ، تحقیق وجوب علم تجوید وقراء ت ،ج:1،ص:252 ،ط:دارالعلوم کراچی)
مقدمۃ الجزری میں ہے :
"والأخذ بالتجويد حتم لازم … من لم يصحح القران آثم ... - لأنه به الإله أنزلا … وهكذا منه إلينا وصلا."
(باب التجويد ،62 ،ط:بيروت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101334
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن