
اگر شک ہو یعنی بھول جائے کہ میں وتر نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے یا نہیں، تو شک کی صورت میں سجدۂ سہو ٹھیک ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل پر نماز وترمیں دعائے قنوت پڑھنے میں شک ہو جائے (یعنی یاد نہ رہے کہ پڑھی تھی یا نہیں)، اگر غالب گمان یہی ہو کہ دعائے قنوت نہیں پڑھی، تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا لازم ہے، اور اگر صرف شک ہو جائے کہ دعائے قنوت پڑھی ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما حكم القنوت إذا فات عن محله فنقول: إذا نسي القنوت حتى ركع ثم تذكر بعد ما رفع رأسه من الركوع لا يعود ويسقط عنه القنوت وإن كان في الركوع فكذلك في ظاهر الرواية.
(کتاب الصلاۃ،فصل في أنواع الصلاة الواجبة ومنها صلاة الوتر، فصل في القنوت، ج: 1، ص: 274، ط: دار الكتب العلمية)
در المختار میں ہے:
"(وإذا شك) في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه وعليه أكثر المشايخ بحر عن الخلاصة (كم صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعدا أولى لأنه المحل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالأقل) لتيقنه (وقعد في كل موضع توهمه موضع قعوده) ولو واجبا لئلا يصير تاركا فرض القعود أو واجبه."
(کتاب الصلاۃ، باب سجود السهو، ج: 1، ص: 100، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100901
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن