بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کو دعا دینے کے دوران اگر دل میں خیال آجائے کہ لوگ مجھے اچھا سمجھ رہے ہیں تو کیا یہ ریاء کاری میں داخل ہے؟


سوال

کیا دعا میں بھی ریا ہوتی ہے؟ جیسے کہ کسی محفل میں کسی کو لمبی عمر کی دعا دینا اور دعا دینے کے دوران دل میں خیال پیدا ہونا کہ لوگ آپ کو اچھا اور نیک سمجھ رہے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر دعاء دینے والے کی نیت یہ نہیں تھی کہ لوگ اس کو اچھا سمجھیں یا نیک جانیں، بلکہ دعا اخلاص کے ساتھ مسلمان بھائی کی خیر خواہی کے لیے دی گئی تھی، اور اس دوران دل میں خیال آگیا کہ لوگ دعا دینے والے کو اچھا سمجھ رہے ہیں، تو یہ خیال آجانا ریاء کاری میں داخل نہیں ہے۔

ملحوظ رہے کہ مسلمان بھائی کے لیے خیر خواہی کے جذبہ کے تحت کوئی بھی دعا کرنا ایک اچھی خصلت ہے، دورانِ دعاء ریاء کاری پیدا ہو جانے کے خوف سے اس نیکی کو ترک نہیں کرنا چاہیے، اور اگر اتفاقاً ریاء کاری پیدا ہو بھی جائے تو بعد میں اس پر استغفار کرلینا چاہیے، اور جب بھی دعا کرے دل لگا  کر دعا کرنا چاہیے۔

مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «خمس دعوات يستجاب لهن: دعوة المظلوم حتى ينتصر، ودعوة الحاج حتى يصدر، ودعوة المجاهد حتى يقعد، ودعوة المريض حتى يبرأ، ودعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب ثم قال: وأسرع هذه الدعوات إجابة دعوة الأخ بظهر الغيب».

(ودعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب) أي: في غيبة أخيه المؤمن حتى يلقاه (ثم قال: وأسرع هذه الدعوات إجابة دعوة الأخ) أي: لأخيه (بظهر الغيب) لدلالتها على خلوص النية، وصفاء الطوية، والبقية لا تخلو دعوتهم عن حظوظهم النفسية وأغراضهم الطبيعية، ولذا ورد: إن الله في عون العبد ما دام العبد في عون أخيه المسلم."

(كتاب الدعوات، الفصل الثالث،  ٤/ ١٥٣٨-١٥٣٩، ط: دار الفكر)

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"افتتح خالصا ثم خالطه ‌الرياء اعتبر السابق، والرياء أنه لو خلا عن الناس لا يصلي فلو معهم يحسنها ووحده لا فله ثواب أصل الصلاة، ولا يترك لخوف دخول ‌الرياء لأنه أمر موهوم، لا رياء في الفرائض في حق سقوط الواجب.

(قوله اعتبر السابق) لعل وجهه أن الصلاة عبادة واحدة غير متجزئة فالنظر فيها إلى ابتدائها فإذا شرع فيها خالصا ثم عرض عليه ‌الرياء فهي باقية لله تعالى على الخلوص وإلا لزم أن يكون بعضها له وبعضها لغيره مع أنها واحدة . . . وقوله ولا يترك إلخ: أي لو أراد أن يصلي أو يقرأ فخاف أن يدخل عليه ‌الرياء فلا ينبغي أن يترك لأنه أمر موهوم أشباه عن الولوالجية. وقد سئل العارف المحقق شهاب الدين بن السهروردي عما نصه: يا سيدي إن تركت العمل أخلدت إلى البطالة وإن عملت داخلني العجب فأيهما أولى؟ فكتب جوابه: اعمل واستغفر الله من العجب اهـ فتأمل."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، فروع في النية، ١/ ٤٣٨، ط: سعيد)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں