بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

دو سوتیلی بیٹیوں کا ایک ساتھ عقیقہ کرنا


سوال

سوتیلی دو بیٹیوں کا  ایک  ساتھ  عقیقہ کر سکتے ہیں، یعنی میاں بیوی کی  ایک ایک بیٹی  تھی وہ بھی اپنے اپنے پہلے بیوی /شوہر کی بیٹی  ہیں،  ان بیٹیوں کا   عقیقہ نہیں  ہوا ، ابھی کرانا چاہتا ہیں، کیایہ دونوں ایک ساتھ کرسکتے ہیں؟

جواب

بچے کی پیدائش پر شکرانہ کے طور پر جو قربانی کی جاتی ہے اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں،عقیقہ کرنا مستحب ہے، عقیقہ کا مسنون وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودھویں (14)  دن ، ورنہ اکیسویں (21) دن کرے،  اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے،اگر کرلے تو ادا ہوجاتا ہے،  تاہم  جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کرے۔ اگر مستحب اوقات میں عقیقہ نہ کیا ہو تو  تب بھی عقیقہ ادا ہوجائے گا، لیکن استحبابی وقت کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔

نیز  چھوٹے  جانور  (مثلًا بکرا، بکری وغیرہ)  میں  صرف  ایک حصہ ہوتا ہے، لہذا ایک  حصے میں دو بچیوں کی نیت کرنے سے کسی  ایک کا بھی کا عقیقہ ادا نہیں ہوگا، البتہ   بڑے جانور  (گائے ، بیل اور اونٹ وغیرہ ) میں  سات حصے ہوتے ہیں اور اس میں قربانی کی طرح عقیقہ کے  بھی حصہ ہوسکتے ہیں، لہذا اگر بڑے جانور میں دونوں بیٹیوں کا ایک ایک حصہ رکھ لیا جائے تو یہ جائز ہے،  یا دونوں بچیوں کے لیے الگ الگ چھوٹے جانور لے کر ایک ہی وقت میں ذبح کردیے جائیں اس سے عقیقہ ادا ہوجائے گا۔

بدائع الصنائع  (10/ 278):

'' فَلَايَجُوزُ الشَّاةُ وَالْمَعْزُ إلَّا عَنْ وَاحِدٍ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةً سَمِينَةً تُسَاوِي شَاتَيْنِ مِمَّا يَجُوزُ أَنْ يُضَحَّى بِهِمَا ؛ لِأَنَّ الْقِيَاسَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ أَنْ لَا يَجُوزَ فِيهِمَا الِاشْتِرَاكُ ؛ لِأَنَّ الْقُرْبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ إرَاقَةُ الدَّمِ وَأَنَّهَا لَا تَحْتَمِلُ التَّجْزِئَةَ ؛ لِأَنَّهَا ذَبْحٌ وَاحِدٌ وَإِنَّمَا عَرَفْنَا جَوَازَ ذَلِكَ بِالْخَبَرِ فَبَقِيَ الْأَمْرُ فِي الْغَنَمِ عَلَى أَصْلِ الْقِيَاسِ''.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6 / 326):

"[تنبيه] قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كان أحدهم مريدا للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلة وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضاً؛ لأن نصيبه شائع، كما في الخانية، وظاهره عدم جواز الأكل منها، تأمل. وشمل ما لو كانت القربة واجبةً على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا، كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر؛ لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں