بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بھائی اور ایک بہن میں ترکہ کی تقسیم


سوال

ہمارے ایک بھائی کا انتقال ہوا،  جو غیر شادی شدہ تھے،  والدین کا مرحوم کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا، ان کے کل  تین بھائی اور ایک بہن تھی، جس میں سے ایک بھائی کا انتقال مرحوم کی  زندگی میں ہوگیا تھا، اب کل حیات ورثاء: دو بھائی اور ایک بہن ہے، مرحوم کے ترکہ میں کچھ مالیت ہے ، اب وہ مذکورہ ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل کے  مرحوم بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے اس کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو، تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد اور  اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک  تہائی ترکہ سے پورا کرکے باقی کل  منقولہ وغیر منقولہ ترکہ  کو  5حصوں میں تقسیم کرکے دو، دو حصہ ہر ایک (زندہ) بھائی کو اور ایک حصہ بہن کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

       میت: 5

بھائیبھائیبہن
221

یعنی 100 فیصد میں سے40 فیصد کرکے  مرحوم کے ہر ایک (زندہ)  بھائی اور 20 فیصد بہن کو ملے گا۔باقی جس بھائی کا مرحوم کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا  اس کا مرحوم کی میراث میں حق وحصہ نہیں ہوگا۔

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101295

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں