بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹے تین بیٹیاں ترکہ کی تقسیم


سوال

میرے شوہر کا انتقال اپنی والدہ کی حیات میں ہوا۔ورثاء میں میرے  شوہر ،دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں پھر میری ساس کا انتقال ہوا، ساس کی ملکیت میں ایک پلاٹ تھا سوال یہ ہے کہ میری ساس کے ترکے میں میرے بچوں کا حصہ بنتا ہے؟ جب کہ میری ساس  کے دو بیٹے تین بیٹیاں ہیں ساس کے والدین اور شوہر کا پہلا انتقال ہو گیا۔

جواب

 صور مسئولہ میں اگر مرحومہ کے شوہر اور  والدین کا ان کی  زندگی میں انتقال ہوگیا تھا تو مرحومہ   کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ  کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے ان کے   حقوقِ  متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو کل ترکہ سے  قرضہ ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرکے  باقی کل  منقولہ و غیر منقولہ ترکہ  کو سات حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے دو، دو حصے مرحومہ کے ہر بیٹے کو اور ایک ، ایک حصہ مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا،سائلہ کے بچوں کا  مرحومہ دادی  کے ترکہ میں   شرعاً حصہ نہیں ہے ، ہاں اگر ورثاء اجتماعی یا انفرادی طور پر کچھ دے دیں تو ثواب ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:7

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
22111

یعنی مثلاً   100 روپے میں سے   28.57 روپے   مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 14.28  روپے  مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں