بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 محرم 1448ھ 20 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دس ذو الحجہ کو پیدا ہونے والے بکرے کی اگلے سال قربانی کرنا


سوال

  اس سال جو بکرا دس ذو الحجہ کو پیدا ہوا تو کیا آئندہ سال دس ذو الحجہ کو اس کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں ؟، کیا آئندہ سال دس ذوالحجہ کو وہ پورے ایک سال کا ہو جائے گا یا اس سے کم ہوگا ؟ 

جواب

صورت مسئولہ  میں مذکورہ بکرے کی آئندہ سال دس  ذوالحجہ کو (جب وقت کےاعتبار سے قمری مہینوں کے اعتبار سے سال پوراہوجائے)اسی طرح گیارہ ،بارہ ذوالحجہ کو قربانی کرنا جائز ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"(وأما) معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري - رحمه الله - أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر والثني منه ابن سنة، والجذع من البقر ابن سنة والثني ابن سنتين، والجذع من الإبل ابن أربع سنين والثني منها ابن خمس وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي في الثني من الإبل ما تم له أربع سنين وطعن في الخامسة وذكر الزعفراني في الأضاحي: الجذع ابن ثمانية أشهر أو تسعة أشهر، والثني من الشاة والمعز ما تم له حول وطعن في السنة الثانية، ومن البقر ما تم له حولان وطعن في السنة الثالثة، ومن الإبل ما تم له خمس سنين وطعن في السنة السادسة، وتقدير هذه الأسنان بما قلنا لمنع النقصان لا لمنع الزيادة؛ حتى لو ضحى بأقل من ذلك سنا لا يجوز ولو ضحى بأكثر من ذلك سنا يجوز ويكون أفضل."

( كتاب التضحية، فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية، ٥ / ٧٠، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

"سوال :جو بکرا گذشتہ سال عید کے روز پیدا ہوا ہو،اس سال اس کی قربانی کرسکتے ہیں ؟

جواب:اس بکرے کی قربانی امسال عید کے دوسرے دن کرسکتے ہیں ،قربانی ادا ہوجائے گی ،اگر احتیاطا اس کو چھوڑ کر دوسرا بکر ا تجویز کرلیا جائے تو  بہتر ہے ۔"

(ج:10 ص:51 ط:دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100816

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں