
میں باربادوز میں مقیم ہوں، یہاں پر اکثر مسلم لوگ تجارت کرتے ہیں اور ان کی اکثر تجارت ادھار ہوتی ہے، اس کی شکل یہ ہے کہ وہ اپنی گاڑی میں مختلف گھریلو استعمال کی چیزیں لیکر لوگوں کے گھر گھرجا کر ان سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کچھ چاہیے؟ اگر کوئی کچھ بھی لیتا ہے تو اس کے نام کا کاڑدبناتے ہیں اور اس پر اس نے جو چیز لی ہے اس کا نام اس کی قیمت اور اس نے کتنے ڈالر دیے اور کل ثمن میں کتنے باقی ہیں ؟وہ لکھتے ہیں اور پھر ہر ہفتے متعینہ دن میں ان کے گھر جا کر ڈالر وصول کرتے ہیں جتنےوہ دیتے ہیں اس کو کارڈ پر لکھ کر جو باقی ہے اس کو بھی لکھتے ہیں، اس طرح پوری رقم وصول کرتے ہیں اور اگر انہیں کوئی چیز چاہیئے اور وہ گاڑی میں موجود ہو تو اسی وقت دیدیتے ہیں ورنہ دوسرے ہفتہ لا کر دیتے ہیں، زید بھی اسی طریقہ پر اپنی تجارت کرتا ہے اور اس کے پاس ایسے بہت سارے کسٹمر ہیں، جن کے ساتھ وہ بغیر کسی جھگڑے کے معاملہ کر رہا ہے، اب زید کو اس کے ایک گاہک جس کا نام جون ہے، کہا مجھے واشنگ مشین چاہیے، زید نے کہا ٹھیک ہے، میں چیک کر کے بتاتا ہوں اور پھر زید ایک بڑی دکان میں گیا جس کا مالک حبیب تھا اور زید کے حبیب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ،اس کی دکان میں واشنگ مشین بک رہی تھی اور اس کی کچھ تصویر لیکر اپنے گاہک جون کو بھیجی، پھر جون نے ایک کو چنا ،چنانچہ زید نے اس کو کہا ٹھیک ہے، میں تجھے اتنے ڈالر میں دوں گا ،جون نے کہا ٹھیک ہے، مجھے منظور ہے، اس کے بعد زید نے دکان کے مالک کو کہا کہ یہ واشنگ مشین مجھے چاہیے اور اس کی ڈیلیوری میرے گاہک جون کے گھر پے کرا دینا اور اس کا پتہ اس کو دے دیتا ہے اور ڈیلیوری کرانے کے الگ سے ڈالر بھی دیتا ہے اور پھر حبیب زید کے کہنے کے مطابق اس واشنگ مشین کو جون کے گھر پہنچا دیتا ہے تو کیا زید کا اس طرح حبیب کی دکان سے جون کو واشنگ مشین بیچنا جائز ہے؟ ("نوٹ - اسی طرح کا معاملہ یہاں پر سب تاجر سالوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں)
صورتِ مسئولہ میں زید کا طریقۂ تجارت یہ ہے کہ وہ خریدار (جون) سے پہلے قیمت طے کر لیتا ہے، پھر دکاندار (حبیب) سے وہی سامان خرید کر خریدار کے گھر براہِ راست ڈیلیور کروا دیتا ہے، اور درمیان میں اپنا نفع شامل کرتا ہے، جبکہ بعض اوقات اس کے پاس اس مال کا پیشگی قبضہ یا ملکیت ثابت طور پر موجود نہیں ہوتی۔شرعی اصول یہ ہے کہ جس چیز پر بائع کی ملکیت یا قبضہ نہ ہو، اس کو بطورِ بیع فروخت کرنا جائز نہیں،
لہٰذا اگر زید محض خریدار سے سودا طے کر کےاس کو قبضہ کیے بغیر دکاندار کو خریدار کے لیے براہِ راست سامان بھیجنے کا کہتا ہے اور درمیان میں نفع رکھتا ہے تو یہ صورت “بیع ما لا یملک” کے تحت محلِ اشکال اور ناجائز ہونے کے قریب ہے۔
البتہ اگر زید پہلے دکاندار سے وہ سامان خود خرید کر اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے، خواہ حقیقی قبضہ فوری نہ ہو مگر ضمان اس کی طرف منتقل ہو جائے، پھر بعد میں خریدار کو فروخت کرے تو یہ صورت شرعاً جائز ہے۔
اسی طرح اگر زید صرف خریدار اور دکاندار کے درمیان واسطہ بنے اور سامان کی خرید و فروخت کے بجائے بطورِ دلال (بروکر) مقررہ اجرت یا کمیشن لے تو یہ صورت بھی جائز ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله : و من اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه) إنما اقتصر على البيع ولم يقل إنه يتصرف فيه لتكون اتفاقية، فإن محمدا يجيز الهبة والصدقة به قبل القبض ... أخرج النسائي أيضا في سننه الكبرى عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام قال: قلت يا رسول الله إني رجل أبتاع هذه البيوع وأبيعها فما يحل لي منها وما يحرم؟ قال: لاتبيعن شيئًا حتى تقبضه ورواه أحمد في مسنده وابن حبان."
(کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة،ج:6 ص:511 ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وملك) بالقبول (بلا قبض جديد لو الموهوب في يد الموهوب له) ولو بغصب أو أمانة؛ لأنه حينئذٍ عامل لنفسه، والأصل أن القبضين إذا تجانسا ناب أحدهما عن الآخر، وإذا تغايرا ناب الأعلى عن الأدنى لا عكسه.
(قوله: ولو بغصب) انظر الزيلعي (قوله: عن الآخر) كما إذا كان عنده وديعة فأعارها صاحبها له فإن كلاً منهما قبض أمانة، فناب أحدهما عن الآخر، (قوله: عن الأدنى) فناب قبض المغصوب والمبيع فاسداً عن قبض المبيع الصحيح، ولا ينوب قبض الأمانة عنه، منح (قوله: لا عكسه) فقبض الوديعة مع قبض الهبة يتجانسان؛ لأنهما قبض أمانة ومع قبض الشراء يتغايران؛ لأنه قبض ضمان، فلا ينوب الأول عنه، كما في المحيط، ومثله في شرح الطحاوي."
(كتاب الهبة،ج:5 ص:694 ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101235
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن