
طارق احمد سعودی عرب میں رہتا ہے اور ٹریلے کا ڈرائیور ہے اور ان کی اصل قیام گاہ (ڈیرہ) ریاض میں ہے اور وہ روزانہ ہزار، بار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے (مثلاً مشیط، خمیس، الجوف، تبوک، دمام وغیرہ) اور اس کا یہ سال بھر کا معمول ہے، اس کے علاوہ ان کا دوسرا عارضی قیام جدّہ میں ہے، جہاں صرف ایک ، دو دن گزارتے ہیں تو اس سفر کے دوران اور عارضی قیام گاہ میں نماز کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ ڈرائیور جب اپنی مستقل قیام گاہ ریاض سے سوا ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی مسافت کے قصد وارادہ سے نکلے تو شہر کے حدود سے نکلنے کے بعد وہ مسافر شمار ہوگا، اور سفر کے دوران قصر (سفرانہ) نماز پڑھے گا یعنی اکیلے نماز پڑھنےیا امام بننے کی صورت میں چار رکعت والی فرض نماز دو رکعت پڑھے گا، البتہ اگر کسی مقیم امام کی اقتدا میں نماز پڑھے گا تو پوری نماز پڑھے گا۔
نیز اگر مذکورہ شخص نے جدہ کو اپنا وطن اقامت نہیں بنایا ، اس طور پر کہ وہ وہاں ایک مرتبہ بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت سے نہیں ٹھہرا یا ٹھہرا تو ہو لیکن اس کے بعد سازوسامان سمیت وہاں سے منتقل ہوکر وطن ِ اقامت کو ختم کردیا ہو ، اور اب صرف عارضی طور پر وہاں کبھی کبھی چند دن قیام ہوتا ہو تو ایسی صورت میں جدہ میں جب بھی وہ پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت سے قیام کرے گا تو قصر (سفرانہ) نماز پڑھے گا۔جدہ وطن اقامت ختم نہ کیا ہو تو پوری پڑھے گا(جد ہ میں)۔
البحر الرائق ميں ہے:
''كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ... وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر.''
(باب صلاۃ المسافر ،ج:4/ 112 ،ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين ... ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، 1/ 139، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100178
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن