بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈرپ لگانے سے وضوء كے ٹوٹنے كا حكم


سوال

اگر ڈرپ لگنے کے دوران صحیح طریقے سےڈرپ نہ لگنے کی وجہ سے کافی مقدار میں خون بہہ جائے تو کیا نماز پڑھنے کے لیے غسل کرنا ہوگا یا وضو کر کے پڑھ لی جائے؟

جواب

ڈرپ لگانے سے خون چاہے وہ سرنج، پائپ وغیرہ میں ہی آئےاور خون كی مقدار اگر اتنی ہو كہ خون باہر ہوتا تو بہہ جاتا، یا اگر خون باہر كھال پر آ جائے تو بوقتِ ضرورت وضوء كرنا لازم ہو تا ہے غسل نہیں، اس لیے كہ یہ ناقضِ وضوء میں سے ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) -بالفتح ويكسر- (منه) أي من المتوضئ الحي معتاداً أو لا، من السبيلين أو لا، (إلى ما يطهر) -بالبناء للمفعول:- أي يلحقه حكم التطهير. ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة، لما قالوا: لو مسح الدم كلما خرج، ولو تركه لسال نقض وإلا لا."

(كتاب الطہارة، سنن الوضوء، ج: 1، ص: 134، ط: حلبی)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں