
ایک کمپنی میں میرے ایک دوست بطور منیجر لیگل افیئرز ملاز مت کرتے ہیں ،اور وہ کمپنی سے ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں ،ان کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے ،کہ وہ کمپنی کے قانونی معاملات کو دیکھیں،بیرونی وکلاء کی خدمات حاصل کریں ،اور ان کے کام کی نگرانی کریں ،تاکہ کمپنی کے مفاد میں بہترین نتائج حاصل ہوسکیں ۔
اب صورت حال یہ ہے ،کہ وہ مجھے اسی کمپنی کےلئے بطور بیرونی وکیل ریٹینر شپ پر رکھنا چاہتے ہیں ،جس کے بدلے کمپنی کی طرف سے مجھے ایک مقررہ ماہانہ فیس دی جائے گی ،مزید یہ کہ اگر کمپنی کی طرف سے کوئی علیحدہ مقدمہ مثلا کورٹ لیٹیگیشن بھی مجھے دیا جائے ،تو اس میں بھی وہ یہی شرط رکھتے ہیں ۔
انہوں نے مجھ سے یہ شرط رکھی ہے ،کہ میں اپنی فیس چاہے ریٹینر شپ ہو یا علیحدہ کیسز میں سے تقریبا 30 فیصد رقم انہیں دوں گا،یہ معاملہ کمپنی کو ظاہر نہیں کیا جائے گا ،یعنی یہ ان دونوں کے درمیان نجی طور پر طے ہوگا ۔
یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ میں اس کام کے لئے مکمل طور پر اہل اور تجربہ کار ہوں ۔
وہ واقعی کمپنی کے مفاد میں کام کرتے ہیں ،اور بیرونی وکلاء کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں ۔
عام طور پر اگر میں یہ فیصد ادا نہ کروں ،تو مجھے اس کمپنی یا اسی نوعیت کی دیگر کمپنیوں سے کیسز ملنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں ،کیونکہ یہ ایک عام رواج سمجھا جاتا ہے۔
اب میری گزارش ہےکہ درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی فرمائیں :
1۔کیا اس طرح کا معاہدہ شرعا جائز ہے؟
2۔کیا اس میں کوئی حرمت، شبہ حرمت یا ناجائز کمائی کا پہلو پایا جاتا ہے؟
3۔اگر یہ صورت ناجائز یا مشتبہ ہو تو اس کو جائز بنانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟برائے کرم قران و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرما دیں، جزاکم اللہ خیرا
1تا3۔صورتِ مسئولہ میں اگر کام دلانے سے پہلے یہ معاہدہ طے ہوا تھا ،کہ سائل اپنے دوست کو 30 فیصد رقم بطور کمیشن دے گا،تو کام دلانے کے بعد مذکورہ شخص کے لئے طے شدہ کمیشن ایک مرتبہ لینا جائز ہو گا، البتہ ہر مہینے سائل کی فیس میں سے 30 فیصد کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں، اسی طرح اگر کام دلوانے میں سائل کے دوست کی کوئی محنت نہیں تھی، تو پھر اس کے لیے کسی قسم کا کمیشن لینا جائز نہیں۔
قرآن کریم میں باری تعالی کا ارشاد ہے :
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ﴾ [البقرة: 188]
شعب الإيمان میں ہے:
"عن سعيد بن عمير الأنصاري قال: سئل رسول الله صلّى الله عليه وسلّم أيّ الكسب أطيب؟ قال:عمل الرجل بيده، وكلّ بيع مبرور."
(التوكل بالله عز وجل والتسليم لأمره تعالى في كل شيء ، ج:2، ص:84، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."
(كتاب الاجارة، ج؛6، ص:63، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101419
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن