
اگر کوئی شخص دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے پہلی بیوی سے اجازت شرعا ضروری ہے یا نہیں؟ جبکہ وہ دوسرا نکاح کی استظاعت رکھتا ہو اور پہلی بیوی سے اولاد بھی ہے اور وہ بیماری کی وجہ سے شوہر کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہے تو ایسی صورت میں دوسرے نکاح کا اسے بتایا جائے تو اس کی بیماری پڑھنے کا اندیشہ ہے تو شریعت کا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کر شرعا جائز ہے ،البتہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلی بیوی کو اعتماد میں لے لیا جائے یا اگر ان کی بیماری کے پیش نظر ان کو اعتماد میں لینا ممکن نہیں تو اپنے سسرال والوں کو اعتماد میں لے لے تاکہ مستقبل کے اختلافات اور ذہنی پریشانی سے بچا جاسکے۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نکاح ایسی چیز بھی نہیں کہ اس کو ہمیشہ کے لیے چھپایا جاسکے ، آج نہیں تو آئندہ کل پہلی بیوی کو معلوم ہوجائے گا اور اس وقت بھی ان کو وہ ہی کلفت ہوگی جو آج معلوم ہونے سے ہوگی، لہذا حکمت کے ساتھ ان کو اعتماد میں لے لیا جائے۔
نیز دوسری شادی کرنے کی صورت میں دونوں بیویوں کی درمیان نان ونفقہ، لباس اور شب باشی میں برابری کرنا ضروری ہے، برابری نہ کرنے کی صورت میں آخرت کے مؤاخذہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قرآن کریم میں ہے:
" وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا [النساء:3]"
"ترجمہ: اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو، یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔( بیان القرآن )"
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:48، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك، والامتناع أولى، ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية."
(كتاب النكاح، الباب الحادي عشر في القسم، ج:1، ص:341، دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101278
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن