بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1448ھ 28 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کی وجہ سے بیوی کو شوہر کے پاس جانے سے روکنے اور طلاق کی شرط عائد کرنے کا شرعی حکم


سوال

میں نے دوسری شادی کی تھی۔ میری پہلی بیوی کے بھائی اس بات پر غصے میں آگئے اور اپنی بہن کو میرے گھر سے لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ میں نے دوسری شادی کرلی ہے، اس لیے وہ اپنی بہن کو میرے ساتھ نہیں رہنے دیں گے۔

کافی عرصے سے انہوں نے اپنی بہن کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے، حالانکہ ہم دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنی بیوی سےاو ر اس کے گھروالوں کو کہا ہے کہ میں اس کے تمام حقوق ادا کروں گا اور اسے نہیں چھوڑوں گا۔ اگرچہ میں نے دوسری شادی کی ہے،  اور وہ بھی میرے ساتھ رہنے پر راضی ہے، بلکہ ہم دونوں یہی چاہتے ہیں کہ ہم میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہیں،لیکن میرے سالے اس بات کو ماننےکے لیے تیار نہیں ہے۔

اب میری بیوی کے بھائیوں نے ایک شرط رکھی ہے کہ وہ اپنی بہن کو میرے ساتھ اسی صورت میں بھیجنے کو تیار ہیں کہ اگر میں نے کبھی اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تو اس وقت میرے نکاح میں جتنی عورتیں ہوں گی یا بعد میں جن عورتوں سے میں شادی کروں گا، ان سب پر طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میں یہ شرط لکھ کر نہ دوں تو وہ اپنی بہن کو میرے ساتھ نہیں بھیجیں گے۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میری بیوی کے بھائیوں کا اپنی بہن کو زبردستی اپنے پاس بٹھائے رکھنا، اور مجھ سے اس طرح کی قسم یا شرط لینا، شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے مرد کو عدل کی شرط کے ساتھ چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل نے دوسری شادی کی ہے، جس کی وجہ سے پہلی بیوی کے بھائیوں کا اپنی بہن کو شوہر سے جدا کرکے اپنے گھر میں روکے رکھنا، اور شوہر سے اس قسم کی عجیب و غریب شرط لکھوانا کہ اگر وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے تو اس وقت اس کے نکاح میں موجود یا آئندہ نکاح میں آنے والی تمام بیویوں پر طلاق مغلظہ واقع ہوجائے، شرعا جائز نہیں۔

اس طرح اپنی بہن کو شوہر کے پاس جانے سے روکنا اور ایسی شرط عائد کرنا گناہ کا کام ہے، لہٰذا ایسا کرنے والے گناہ گار ہوں گے۔

جبکہ سائل اپنی بیوی کو یہ یقین دہانی کرا چکا ہے کہ وہ اس کے تمام شرعی حقوق ادا کرے گا، اور میاں بیوی دونوں بھی ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہیں، تو ایسی صورت میں بیوی کے بھائیوں کا ان کے درمیان رکاوٹ بننا اور بیوی کو شوہر کے پاس جانے سے روکنا شرعاناجائز ہے، اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوں گے۔

 تفسير الطبري، جامع البيان عن تأويل آي القرآن میں ہے:

 "فقال الله تعالى ذكره: {فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن إذا تراضوا بينهم بالمعروف}.حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أصحابه، عن إبراهيم في قوله: {وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن}. قال: المرأة تكون عند الرجل فيطلقها، ثم يريد أن يعود إليها، فلا يعضلها وليها أن ينكحها إياه."

(تفسیرالطبری، المؤلف: أبو جعفر محمد بن جرير الطبری، ج: 4، ص: 192، ط: دارھجر القاھرۃ)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة:متفق علیہ."

(کتاب الآمارۃ والقضاء، الفصل الاول، ص: 318، ط: قدیمی کتب خانہ)

ترجمہ: "مسلمان پر سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے، خواہ اسے کوئی بات پسند ہو یا ناپسند، جب تک اسے گناہ کے کام کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا۔"

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

(وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة) أي لأحد كما في رواية الجامع الصغير أي من الإمام وغيره كالوالد والشيخ (في معصية) وفي رواية الجامع: في معصية الله (إنما الطاعة في المعروف) أي ما لا ينكره الشرع (متفق عليه) ورواه أبو داود وابن ماجه.

(كتاب الإمارة والقضاء، ج: 6، ص: 2393، ط: دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں