بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کی وجہ سے بیوی بچوں کا بدسلوکی و قطع تعلقی کرنا


سوال

میری عمر 58 سال ہے، میری شادی 1984 میں ہوئی تھی، شادی سے 5 بچے پیدا ہوئے جن میں سے پہلا بڑا بیٹا 27 سال کی عمر میں حادثاتی طور پر پولیس کی گولی لگنے سے انتقال کر گیا، اس کے بعد میری تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، تین بیٹیوں کی شادی ہو چکی تھی، ایک بیٹی کو 10 سال بعد طلاق ہو گئی اس کے دو بچے ( بیٹے) ہیں جو کہ میرے ساتھ رہتے ہیں، دو بیٹیاں الگ اپنے گھروں میں رہتی ہیں، ان کے بھی بچے ہیں، میں میری بیوی میری ایک بیٹی اپنے بچوں کے ساتھ اور میرا ایک بیٹا میرے ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں، میں پیشے کے لحاظ سے سرکاری ملازم  وکیل ہوں۔ 

میری بیوی نمازی پرہیز گار گھریلو خاتون ہے، سب بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال اس نے کی ہے، ہماری شادی کو  تقریبا 41 سال ہو چکے ہیں، میں نے اپنی بیوی بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے، اللہ کے فضل سے کسی بات کی کوئی کمی یا پریشانی نہیں ہے اپنی بیوی کے نام سے دو تین پراپرٹیاں لی ہیں ،جس گھر میں رہتے ہیں وہ بھی اس کے نام پر ہے، دو گاڑیاں ہیں، اللہ کا فضل ہے اپنے بیوی بچوں کو عمرہ ، حج وغیرہ بھی کرایا ہے۔

میں تھوڑا سخت مزاج ہوں رو کتاٹوکتا ر ہتا ہوں، خاص طور پر اپنے بیٹے کو جس کی اب عمر 22 سال ہے، اپنے بیٹے سے ناراض رہتا ہوں  کہ بحیثیت باپ جو میں اپنے بیٹے کی اصلاح کر سکتا ہوں کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، مگر میرا بیٹا اپنے دوستوں اور ان کے باپوں کو میری بات پر ترجیح دیتا ہے، میری بات کو رد کر کے غیروں کی بات کو فوقیت دیتا ہے، اس لیے  میری اس سے ناراضی ہے، میری بیوی بجائے میری بات ماننے پر اس کو زور دے، وہ اس کا ساتھ دیتی ہے۔

اب میرا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میری بیوی مجھے حقارت سے دیکھتی ہے اور ہمارا جو میاں بیوی والا رشتہ ہوتا ہے اس میں بھی وہ بیزاری اور الجھن محسوس کرتی ہے، مجھے جب بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے تو صرف اور صرف اس کی ناراضی کی وجہ سے کچھ نہیں کہتا، پوری پوری رات اذیت میں گذار دیتا ہوں، مگر اللہ کے خوف سے نہ اس کو بد دعا دی نہ شکوہ کیا، جب کہ میری بیوی نماز روزہ تہجد اور تمام عبادات کی پابند ہے، مگر میرے معاملے میں دین کیا کہتا ہے وہ نہیں جانتی، میں زیادہ  اس کی کوئی اور بات نہیں کرنا چاہتا، میں اس کی تمام ضروریات اللہ اور  اس کے رسول کے کہنے کے مطابق پوری کرتا ہوں، مگر وہ میری ضرورت پوری نہیں کرتی، جس کی  مجھے ضرورت ہے اور وہ خوب جانتی ہے مجھے کیا ضرورت ہے۔

چنانچہ  کچھ عرصہ قبل میں نے ایک 52 سالہ عورت جو کہ غیر شادی شدہ تھی، میرے ہی پیشے سے تعلق رکھتی ہے، نکاح کر لیا تھا، جب  کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ہی رہتا تھا اور وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی،  ابھی 2025 کے حج کے بعد میں نے اپنا اور دوسری بیوی کا عمرہ کا ویز الگوالیا، یہ بات میں نے اپنے گھر میں نہیں بتائی تھی، ہماری فلائٹ مورخہ 22.06.2025 کی تھی، میرے سب بچے بیٹیاں داماد مورخہ 21.06.2025 کی رات کو آئے تھے، کھانے سے فارغ ہو کر میں نے ان کو بتایا کہ میں اکیلا کچھ دوستوں کے ساتھ صبح کی فلائٹ سے عمرہ پر جا رہا ہوں،  میری بیوی کو شاید معلوم ہو گیا تھا کہ میں نے نکاح کر لیا ہے اور دوسری بیوی کے ساتھ عمرہ پر جارہا ہوں،کیوں کہ  داماد گھرمیں موجود تھے،ان کے سامنےکسی نے بات نہیں کی اور یوں میں دوسرے دن صبح عمرہ پر روانہ ہو گیا۔

جب تک میں عمرہ پر رہا میری بیوی بچوں نے کوئی خیر خبر نہ لی، میں نے اپنی بیٹیوں کو دعائیہ  میسج کیے تھے، مگر انہوں نے کوئی سلام دعا نہیں کی، جب میں واپس آیا تب بھی کسی نے سلام دعا نہیں کی، جب تینوں بیٹیاں اکٹھی ہو ئیں تو انہوں نے مجھے خوب باتیں سنائیں کہ آپ نے ہماری ماں کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کی ہے ان کا کیا قصور تھا اور بے شمار باتیں، خیر میں نے ان سے کہا کہ جیسے میں گھر میں پہلے رہ رہا تھا اس طرح رہوں گا، انہوں نے کہا کہ ہمارے شوہروں کو معلوم ہوگا تو وہ کیا کہیں گے؟ میں نے کہا کہ تم ان کو بتاؤ گی تو معلوم ہو گا، جیسا پہلے تھا ویسے ہی ہوگا۔ اور اگر تم کو میرا یہاں رہنا پسند نہیں تو  مجھے بتاؤ، میں یہاں سے چلا جاتا ہوں، تمہیں تمہارے خرچے اسی طرح  ملتے رہیں گے، کوئی پریشانی کی بات نہیں ہوگی، نہ کوئی تکلیف ہونے دوں گا۔

اس پر انہوں نے خاموشی اختیار کی اور میں مورخہ 06.07.2025 عمرے سے واپسی کے بعد سے  اسی گھر میں رہ رہا ہوں، مجھ سے کو بات چیت نہیں کرتا ہے، جب دوسری بیٹیاں آتی ہیں تو وہ بھی اپنی ماں بہن اور بھائی تک ہی محدود رہتی ہیں، ان کے بچے تو مجھ سے بات چیت کرتے ہیں، اب میری بیوی، بیٹے اور تینوں بیٹیوں  کا ایک بلاک بنا ہوا ہے، یہ ہنستے بولتے ہیں، اللہ ان کو خوش رکھے، میں اپنے کمرےمیں ہی موجود رہتا ہوں ،کسی بھی معاملے میں مجھے شامل کرنا یا بلا نا پسند نہیں کرتے سوائے مجھے کھانا دینے کے، میں صبح کا ناشتہ خود باندھ  کر آفس جاتا ہوں اور رات کا کھا نہ گھر پر کھاتا ہوں جو وہ پکا کر دیتے ہیں ۔

میری بیوی میرے بیڈ پر آکر سو تو جاتی ہے، مگر ہم میں اب تک ایک لفظ  بھی بات چیت نہیں ہوئی ہے، اب یہ سب میرے لیے  بہت شدید ذہنی اذیت کا سبب ہے، میں خاموش اس وجہ سے ہوں کہ میرا کوئی ایک بھی جملہ ان کو بھڑکا دے گا، گھر میں بد نظمی ہوگی، مجھے کیاکرنا چاہیے؟  ہمارا دین اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ میں نے کوئی غلط کام کر لیا ہے کہ میں  اس میں گناہ گار ہوں ،میں شدید اذیت میں مبتلا ہوں،کیا میں غلط ہوں یا میرے بیوی بچے جو میرے ساتھ یہ کر رہے ہیں وہ غلط ہیں؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ  مجھے کیا کرنا چاہئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق روشنی فرمائیں!

جواب

شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کے باہمی حقوق کو بہت اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور  دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کے بہت تاکید کی گئی ہے،احادیث مبارکہ میں  شوہر کی نافرمانی کرنے والی عورت کے بارے میں   سخت وعیدیں آئی ہیں، اور شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرنے والی عورت کے بارے میں بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے،چنانچہ  رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں،اسی طرح آپ  ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے،اسی طرح ارشاد  فرمایا: جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے روزے رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو  وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔(مشکاۃ المصابیح،۲/۲۸۰،قدیمی)

اگرکوئی  مرد  بیک وقت ایک سے زائد بیویوں کے مالی اور جسمانی حقوق ادا کرنے پر قادر ہو اور ان کے درمیان انصاف اور برابری بھی کرسکتاہو تو اس کے لیے شرعاً  دوسری شادی کرنا جائز ہے، اور   پہلی بیوی کی اجازت لینا شرعًا ضروری نہیں،  لہذا اگر سائل  نے دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی پر قادر  ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرلی ہے، اور اس کے بعد پہلی بیوی کے حقوق میں کسی قسم کی کمی نہیں کی تو   سائل  کی بیوی کابدسلوکی کرنا اور اجنبیت کا رویہ رکھنا شرعًا جائز نہیں ہے، لہذا اس کو چاہیے کہ اپنے اس برے رویہ و بدسلوکی پر توبہ واستغفار کرے، اور  اس  طرز عمل کی اصلاح کرے، البتہ اگر سائل کی جانب سے اپنے بیوی بچوں کے حقوق میں کوتاہی برتی جاتی ہو تو اس پر توبہ واستغفار کرے ،اور آئندہ مکمل طور پر دونوں کے حقوق ادا کرے نیز سائل کا یہ طرز و عمل کہ مکمل طور پر پہلی بیوی کے ساتھ رہنا  بھی شرعًا درست نہیں ہے،بلکہ نان نفقہ اور شب پاشی میں برابری ضروری ہے،البتہ اگر دوسری بیوی نے اپنے حق کو معاف کردیا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

سائل کے بچوں کا  اپنے والدین کے باہمی رنجشوں کی بنیاد پر اپنا رویہ  والد سے خراب کرنا اور بدسلوکی و قطع تعلقی اختیار کرنا شرعًا  جائز نہیں ہے؛آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے(مصابیح السنۃ)؛لہذااولاد کو اپنے والد کے ساتھ بدسلوکی اور قطع تعلقی کے بجائے والدین کے درمیان صلح کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ  ان کی آپس کی کدورتیں دور ہوں اور گھریلو پریشانیوں سے انہیں نجات ملے۔ 

سائل کو چاہیے کہ اپنے بیوی بچوں کو مستقبل قریب اور بعید میں اُن کے جملہ حقوق کی مکمل ادائیگی کی یقین دہانی بھی کرائے،اگر باہمی مفاہمت سے کوئی حل نہ نکلےتو خاندان کے دیگر افراد کی مدد سے مفاہمت کی کوشش کرے اور ساتھ میں اس دعا﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰـتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴾ [ الفرقان : 74 ]  کا کثرت سے ورد کرے، امید ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے ان شاء اللہ!

قرآن کریم میں ہے:

"وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ".(سورة النساء،الآية:3)

ترجمہ:" اگر تم کو اس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلودو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھو گے، تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری مِلک میں ہو وہی سہی۔ اس امرِ مذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے۔" (بیان القرآن) 

اسی طرح ارشاد ہے:

"﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ﴾ (سورة الاسراء، الآية:23)"

ترجمہ:"اور تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرواگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں سو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا"۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا. ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا» قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه."

(باب البر والصلة،الفصل الثالث، ج:3، ص:1382، ط: المكتب الإسلامي)

ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔ ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں۔"

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات."

(باب البر والصلة،الفصل الثالث، ج:3، ص:1383، ط: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تمام گناہوں میں سے اللہ جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے، مگر والدین کی نافرمانی ایسا (سنگین) گناہ ہے کہ اللہ اس کے مرتکب کو دنیا میں ہی  موت سے پہلے ہی(اس کے انجام کی) جلد سزا دیتا ہے"۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر".

(‌‌كتاب النكاح، ‌‌فصل في المحرمات، فروع طلق امرأته......الخ، ج:3، ص:48، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100304

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں