
میں شادی شدہ ہوں۔ مجھے گھریلو معاملات چلانے میں اور ازدواجی تعلقات قائم نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے سے شدید مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔
براہِ کرم شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسی صورت میں میرے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے؟
اور کیا دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لینا شرعاً ضروری ہے؟
اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی شرعاً ضروری نہیں ہے اگرچہ قانونا اس کو لازم قرار دیا گیا ہے،باقی مرد کو ایک سے زیادہ (چار تک) شادیاں کرنے کی اجازت اس وقت ہے جب وہ تمام بیویوں کے درمیان برابری اور انصاف قائم کر سکے۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے، بشرطیکہ دونوں میں عدل و انصاف قائم کرسکے۔ اگر کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کا اندیشہ ہو تو پھر اجتناب کرنا چاہیے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
(بیان القرآن)
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا (النساء:3)
"ترجمہ:اور اگر تم کو اس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو، دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو، یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔"
( بیان القرآن )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100987
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن