بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کرنے پر والد صاحب کا ناراض ہونا اور کھانا پینا بند کردینا


سوال

میں دوسری شادی کرنا چاہتاہوں، جس کے لیے میری پہلی بیوی راضی ہے، میری بیوی نے شادی کی بات بھی کی ہے، لڑکی اور لڑکی کے والدین بھی راضی ہے، میرے والد صاحب مجھے دوسری شادی کرنے سے منع فرمارہے ہیں، اور انتہائی ناراض اور ناخوش  ہے، والد صاحب دوسری شادی کا سن کر اس دن سے  لے کر آج تک کھانا پینا بند کیا ہوا ہے،کچھ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں ہے۔

آپ حضرات سے سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں میری لیے دوسری شادی کرنا مناسب ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرآپ دوسری شادی کرکے دونوں بیویوں کے تمام حقوق اداکرنے کی قدرت رکھتے ہیں اوردونوں کے درمیان عدل ومساوات قائم رکھ سکتے ہیں  توشرعاً دوسری شادی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اس لیے والد صاحب کا اپنے بیٹے کو دوسری شادی سے منع کرنا اور رکاوٹ بننا جائز نہیں ہے۔البتہ آپ کو چاہیے کہ حکمت اور نرمی کے ساتھ  والد صاحب کو سمجھا کر راضی کریں اور پھر نکاح کریں۔

           قرآنِ کریم میں ہے:

{فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ}[النِّسَآء:۴]

ترجمہ: ”اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو، دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے۔“  (بیان القرآن)

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا﴾ [النساء:3]

ترجمہ:”اور اگر تم کو اس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو، دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو، یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔“  (بیان القرآن )

فتاوی شامی میں ہے:

" (و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر".

( کتاب النکاح،ج:3،ص:48، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك".

(کتاب النکاح،  الباب الحادی عشر في القسم،ج:1،ص:341، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100660

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں