بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی جگہ دوسرے کو امتحان میں بٹھانے کا حکم


سوال

سوال یہ ہے کہ ایک شخص اپنی جگہ امتحان میں کسی اور کو بٹھاتا ہے،کسی وجوہات کے باعث خود نہیں بیٹھ سکتا تو یہ کام کیسا ہے؟ اور اس کے لیے پیسے دینا اور لینا شرعا کیسا ہے ؟ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اصل امیدوار/طالب علم کااپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو امتحان میں بٹھانااور دوسرے سے پرچہ حل کروانادھوکہ دہی اور خیانت ہے۔ شریعت کی رو سے خیانت کرنا گناہ کبیرہ وناجائزہے،اورکسی بھی ناجائز عمل پر اجرت لینا/دیناجائز نہیں،لہذا کسی دوسرے کو اپنی جگہ امتحان کے لیے بھیجنااور اس پر پیسہ کا لین دین کرنا شرعاً ناجائزہے،اور ناجائز کام پر اجرت لینا بھی ناجائز ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا."

(کتاب الإجارات، باب الإجارۃ الفاسدۃ، ج:16، ص38، ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101265

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں