بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسرے کے نام پر ناشتہ کرنے کا حکم


سوال

زید عمرے کے سفر پر مکہ کے کسی ہوٹل میں قیام پذیر ہے، ہوٹل والوں نے اس سے ناشتہ کی مد میں ایڈوانس رقم وصول کی ہوئی ہے اور ناشتے کے وقت کمرہ نمبر بھی پوچھتے ہیں،

اب زید اپنی جگہ خالد کو ناشتہ پر بھیج دیتا ہے اور خالد وہی کمرہ نمبر بتاکر ناشتہ کرلیتا ہے، جو حقیقت کے خلاف ہے۔

کیا زید کا یہ عمل جائز ہے؟؟

کیا خالد کے لئے یہ ناشتہ کرنا جائز ہے؟؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دیکھا جائے گا کہ ہوٹل والوں کی کوئی پالیسی ہے یا نہیں، اگر کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ اجازت ہے کسی دوسرے کو اپنی جگہ ناشتہ کرواسکتے ہیں، تو مذکورہ صورت میں  زید نے چوں کہ ہوٹل والوں کو اپنے ناشتہ کے پیسے ايڈوانس ادا کردیے ہیں، پس  زید ناشتہ کا حق دار ہوگیا ہے، اب زید کو اختیار ہے کہ وہ ناشتہ خود کرے یا کسی دوسرے کو کرائے، لہٰذا جب زید خالد کو  اپنے نام پر ناشتہ لے کر کھانے کا کہتا ہے، تو اس میں کوئی خلاف واقع نہیں ؛ کیوں کہ زید نے خالد کو ناشتہ کی وصولی پر  اپنا وکیل بنالیا، اور  کھانے کا کہہ دیا، تو یہ جائز ہے۔البتہ زید کے لیے  بغیر پیسے دئےدوبارہ  اسی روز  ہوٹل سے  خود ناشتہ کرنا دھوکہ دہی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔ 

لیکن اگر ان کی یہ پالیسی ہو کہ صرف خاص شخص کو یا متعینہ کمرے والے کو ہی ناشتہ کی اجازت ہے، تو ایسی صورت میں دوسرے شخص کو اپنی جگہ ناشتہ کرنے کے لیے بھیجنا جائز نہ ہوگا، لہٰذا مناسب صورت یہ ہے کہ زید خود ناشتہ وصول کرلے، پھر خالد کو کھلادے، تو کوئی قباحت لازم نہ آئی گی۔

وفی درر الحكام شرح مجلہ  الاحكام :

"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره."

(انظر المادة 1192، ج:1، ص: 473، ط: دار الکتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجوز التوكيل بالبياعات والأشربة والإجارات والنكاح والطلاق والعتاق والخلع والصلح والإعارة والاستعارة والهبة والصدقة والإيداع وقبض الحقوق والخصومات وتقاضي الديون والرهن والارتهان، كذا في الذخيرة."

(کتاب الوکالة، الباب الأول في معنی الوکالة ورکنھا وشرطھا و ألفاظھا وحکمھا وصفتھا، ج: 3، ص: 564، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

''لأن المواعید قد تکون لازمة لحاجة الناس''.

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج: 5، ص: 277،ط:  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں