بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

دورانِ نماز چڑھے ہوئے آستین کو نیچے کرنے کا حکم


سوال

وضو کے بعد اگر آستینیں کہنیوں سے اوپر رہ جائیں، تو دوران نماز آستینیں نیچے کی جا سکتی ہیں؟  یا بغیر آستینیں نیچے کیے نماز ادا ہوسکتی ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ  آستین چڑھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہذا اگر کوئی شخص  وضو کے دوران آستین کہنیوں سے اوپر رہنے کی وجہ سے  نیچے کیے بغیر  جماعت میں شامل ہوگیا اور کہنیاں کھلی رہ گئیں،  تو نماز کے دوران عملِ  کثیر کے بغیر آستین نیچے کرلینی چاہیے اوپر رہنے نہ دیا جائے،  اور اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ ایک ہی رکن میں دونوں آستینیں نیچے نہ کرے، بلکہ مختلف ارکان کی ادائیگی میں حتی الامکان کم سے کم عمل کے ذریعے نیچے کردے، تو عملِ  قلیل کی وجہ سے نماز پر اثر نہیں پڑے گا اور نماز بھی کراہت سے خالی ہوجائےگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل

(قوله كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام. وإذا دخل في الصلاة كذلك وقلنا بالكراهة فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعمل قليل أو تركهما؟ لم أره: والأظهر الأول بدليل قوله الآتي ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل تأمل. هذا، وقيد الكراهة في الخلاصة والمنية بأن يكون رافعا كميه إلى المرفقين. وظاهره أنه لا يكره إلى ما دونهما. قال في البحر: والظاهر الإطلاق لصدق كف الثوب على الكل اهـ ونحوه في الحلية، وكذا قال في شرح المنية الكبير: إن التقييد بالمرفقين اتفاقي. قال: وهذا لو شمرهما خارج الصلاة ثم شرع فيها كذلك، أما لو شمر وهو فيها تفسد لأنه عمل كثير." 

(كتاب الصلوة، باب مايفسد الصلوة ومايكره فيها، ج:1، ص:640، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209200034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں